جہانگیر پوری سانحے کو لے کر اویسی نے بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا

,

   

نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے دہلی کے تشدد سے متاثرہ جہانگیر پوری علاقے میں تجاوزات کے نام پرمبینہ فساد کے ٹھہرائے گئے ملزمان کے خلاف بلڈوزر چلائے جانے پر بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کو نشانہ بنایا ہے۔ اویسی نے جہانگیر پوری میں مبینہ تجاوزات کے نام پر بلڈوزرچلائے جانے کو ترکمان گیٹ 2022 قرار دیا۔اویسی نے ٹویٹ کرکے کہا کہ ترکمان گیٹ 2022 تاریخ بتاتی ہے کہ 1976 میں اقتدار میں رہنے والے موجودہ وقت میں اپنی طاقت کھو چکے ہیں۔ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کو بھی یاد رکھنا چاہئے،یہ سیاسی طاقت ہمیشہ نہیں رہتی ہے ۔خیال رہے کہ 1976 میں ترکمان گیٹ واقعہ بہت مشہور ہوا تھا،ترکمان گیٹ کچی آبادیوں میں ریاستی ظلم اور قتل عام کی وجہ سے خبروں میں آیا تھا۔اندرا گاندھی حکومت نے ان مظاہرین کو گولی مارنے کا حکم دیا تھا، جو علاقہ میں مکانات کے انہدام کیخلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران سینکڑوں مکانات اور دکانیں مسمار کی گئیں، مخالفت کرنے والے درجنوں افراد کو جیلوں میں ڈالاگیا ۔خیال رہے کہ کہ جہانگیر پوری میں 16 اپریل کو ہنومان جینتی اور 18 اپریل کو تشدد کے واقعات پیش آئے، یہاں مسجد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ، اشتعال انگیزنعرے لگائے گئے ، پھر دونوں طرف سے سنگ باری ہوئی اور توڑ پھوڑ ہوئی ، جس کے بعد آج ناجائز قبضہ کے نام پر فساد کے مبینہ ملزمان کے مکانات کو غیر قانونی تجاوزات کے نام پر ڈھادیا گیا۔

YouTube video