جہاں تیل وہاں امریکہ کا کھیل

   

Ferty9 Clinic

کیا دنیا تیزی سے جنگ عظیم کی طرف جارہی ہے؟

عامر علی خاں
دنیا میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سال 2026ء بہت ہی تباہ کن ثابت ہوگا۔ نیا سال شروع ہوئے بمشکل ایک ہفتہ بھی نہیں گذرا تھا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے براعظم جنوبی امریکہ کے ملک ونیزویلا پر اپنی خصوصی ڈیلٹا فورس کے ذریعہ حملہ کروایا اور چار گھنٹوں کی اس کارروائی میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغواء کرکے امریکہ منتقل کردیا جہاں ان کے خلاف فوجداری عدالت میں مقدمہ بھی شروع کردیا گیا ہے۔ مادور پر منشیات کی اسمگلنگ اور امریکہ میں منشیات اسمگل کرنے کی سازش کا ایک حصہ ہونے جیسے الزامات عائد کئے گئے جبکہ عالمی سطح پر امریکی صدر کے اس اقدام کی مذمت کی جارہی ہے اور پرزور انداز میں کہا جارہا ہے کہ یہ کسی بھی ملک کے اقتدار اعلیٰ اور اس کی قومی سالمیت و اتحاد کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے ونیزویلا کے صدر کو اغواء کیوں کیا؟ اس کے پیچھے کارفرما عوامل کیا ہیں؟ (ویسے بھی ونیزویلا کی عارضی حکومت کے مطابق امریکی کارروائی Absolute Resolve میں ونیزویلا کے 100 سے زائد فوجی اور مادورو کے قریبی عہدیدار اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے۔ بہرحال ہم نے جیسا کہ سطور بالا میں یہ سوال کیاکہ آخر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ونیزویلا اور اس کی حکومت کے خلاف یہ کارروائیوں کیوں کی؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ اپنے مفادات کے تحفظ اور جھوٹ کی بنیاد پر اُن ملکوں کو نشانہ بنایا جو قدرتی وسائل بالخصوص تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ جہاں تک جھوٹ و دروغ گوئی کی بنیاد پر حکومتوں اور حکمرانوں کو زوال سے دوچار کرنے کا سوال ہے اس بارے میں ہم آپ کو آگے کے سطور میں بتائیں گے چونکہ یہاں بات ونیزویلا کی ہورہی ہے تو حالیہ عرصہ کے دوران الجزیرہ اور دوسرے میڈیا چیانلوں و اخبارات میں واضح طور پر امریکہ کے بارے میں کہا گیا کہ جہاں تیل وہاں امریکہ کا کھیل۔ اس ضمن میں جو تفصیلات منظر عام پر آئیں اُن کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ امریکہ قدرتی وسائل سے مالا مال کسی بھی ملک کو نہیں بخشتا اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس کرۂ ارض پر اسرائیل کے سواء امریکہ کا کوئی دوست نہیں ہے اور امریکہ اسرائیلی مفادات کے تحفظ کی خاطر خود کو بلی کا بکرا بنانے سے بھی گریز نہیں کرسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے ادارے خاص طور پر معیشت صیہونیوں کے رحم و کرم پر ہے۔ بہرحال ونیزویلا کے قدرتی وسائل کی جو تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں اُن کے مطابق ونیزویلا کے پاس صرف تیل کے ہی نہیں کوئلہ سے لے کر سونے اور ہیروں کے بے شمار ذخائر موجود ہیں۔ 2018ء کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ونیزویلا میں سونے کے ذخائر میں 644 ٹن سونا موجود تھا جبکہ حکومت ونیزویلا کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس سونے کے وافر ذخائر موجود ہیں جبکہ ونیزویلا کے پاس 3 ارب میٹرک ٹن کوئلہ، 14.68 ارب میٹرک ٹن خام فولاد، 407.885 میٹرک ٹن نکل، 99.4 ملین میٹرک ٹن باکسائٹ کے ذخائر پائے جاتے ہیں جبکہ 1295 ملین کیرٹ ہیرے کے ذخائر کا بھی وہ حامل ہے۔ دوسری جانب 2023ء میں ایک رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ونیزویلا کے پاس قدرتی گیس کے بڑے ذخائر موجود ہیں اور ان ذخائر میں کم از کم 5.5 کھرب کیوبک میٹر قدرتی گیس پائی جاتی تھی جو براعظم جنوبی امریکہ میں پائی جانے والی جملہ قدرتی گیس کا 73 فیصد حصہ بنتی ہے۔ اگر ہم تیل کی بات کریں تو ونیزویلا میں 303 ارب بیارل تیل پایا جاتا ہے جو امریکہ میں پائے جانے والے تیل سے 5 گنا زیادہ ہے۔ امریکہ میں 55.25 ارب بیارل تیل کے ذخائر ہیں جبکہ سعودی عرب میں 1267 ارب بیارل تیل، ایران میں 208.6 ارب بیارل، کینیڈا میں 163.63 ارب بیارل تیل، عراق میں 145.02 ارب بیارل تیل، کویت میں 101.5 ارب بیارل تیل اور روس میں 80 ارب بیارل تیل پایا جاتا ہے۔