حیدرآباد ۔ 13 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : حکومت تلنگانہ نے جی او 111 سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے کے لیے تلنگانہ ہائی کورٹ سے مزید وقت طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس جی او کے تحت حیدرآباد کے مضافات میں ذخائر آب عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے آبگیر علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیوں پر امتناع عائد ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کل یہاں پرگتی بھون میں عہدیداروں کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس میں اس سلسلہ میں فیصلہ کیا ، کیوں کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے گذشتہ ماہ حکومت سے اس جی او کی تائید اور مخالفت میں متضاد مباحث و دلائل کے پیش نظر جی او 111 سے متعلق فیصلہ کرنے کے لیے تشکیل کردہ اعلیٰ اختیاری کمیٹی کی رپورٹ چار ہفتوں کے اندر داخل کرنے کے لیے کہا تھا ، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جی او 111 سے متعلق فیصلہ کرتے وقت عوام اور شہر کے مفادات کو ذہن میں رکھنا ہوگا ۔ جھیلوں اور گرینری کا تحفظ کرنا اس سے متعلق فیصلہ کرنے والوں کی ذمہ داری ہوگی اور ساتھ ہی رئیل اسٹیٹ شعبہ کو بھی ابھرنے کا ضروری موقع ملے ۔ انہوں نے کہا کہ ذخائر آب عثمان ساگر ، حمایت ساگر ، کونڈا پور چماں اور ملنا ساگر 11,000 ایکڑس کے رقبے پر محیط ہیں جس کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ساتھ ہی تقریبا ایک لاکھ ایکڑس جنگلات کی اراضی کا بھی تحفظ کرنا ضروری ہے تاکہ ماحولیاتی توازن کی برقراری کو یقینی بنایا جائے ۔ اس اجلاس میں عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ جی او 111 ، 84 مواضعات کا احاطہ کرتا ہے 1.32 ایکڑس 538 مربع کلومیٹر کے رقبہ میں یہ لگ بھگ جی ایچ ایم سی علاقہ کے مساوی ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جب تک شہر کی ترقی ایک فل پروف پلان کے مطابق نہیں ہوگی ۔ ذخائر آب اور رہائشی علاقے آلودگی کا شکار ہوسکتے ہیں ۔ اس لیے اس طرح کی صورتحال کا تدارک کرنے کے لیے گرین زونس کی نشاندہی کرنے ، سیوریج ماسٹر پلان بنانے ، پینے کے پانی کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے اور کشادہ سڑکوں کے لیے پلاننگ کرنی ہوگی تاکہ شہر کو شاندار بنایا جاسکے ۔۔