حکومت کو جی او سے دستبرداری کی ضرورت ، تالابوں میں مکانات کی تعمیر ، قائدین کے بھی مکانات شامل
حیدرآباد۔ شہر میں ہوئی بارش کی تباہ کاریوں کے بعد تلنگانہ حکومت کی جانب سے کیا گیا عوام سے جی او 111کے متعلق وعدہ اب کبھی وفا نہیں ہوپائے گا اور اگر حکومت ان حالات کو دیکھنے کے باوجود جی او 111کی تنسیخ کے فیصلہ کو یقینی بنانے کے اقدامات کرتی ہے تو ایسی صورت میں شہر حیدرآباد کو مزید سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ریاستی حکومت کو شہر حیدرآباد کے تحفظ کے لئے فوری طور پر جی او 111کی تنسیخ کے منصوبہ سے دستبرداری اختیار کرنی ہوگی اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو شہر حیدرآباد میں آئندہ برسوں کے دوران ہونے والی بارش میں مزید تباہی کا خدشہ رہے گا۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے اقتدار حاصل کرنے سے قبل حمایت ساگر اور عثمان ساگر کے اطراف کے آبگیر علاقہ اور طاس میں تعمیرات کی اجازت کی فراہمی کیلئے اقدامات کے تحت جی او 111کی تنسیخ کا وعدہ کیا تھا لیکن ذخائر آب کے تحفظ اور تالابوں کے تحفظ کرنے والے ادارو ںکی جانب سے حکومت کے اس اقدام کے خلاف جاری جدو جہد کے سبب اب تک ایسا ممکن نہیں ہوسکا اور اب شہر میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے بعد حکومت کی جانب سے جی او 111 کی تنسیخ کے اقدامات قطعی ممکن نہیں ہوپائیں گے۔ شہر حیدرآباد میں بارش کی تباہ کاریوں کے بعد بھی اگر حکومت کی جانب سے جی او 111 کی تنسیخ کے سلسلہ میں پیشرفت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ اقدام نہ صرف شہر کی تباہی کی سمت پیشرفت ثابت ہوگا بلکہ اگر ایسا کرنے کی حماقت کی جاتی ہے تو حکومت کو سنگین قانونی رسہ کشی کا بھی سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ جہدکاروں کے علاوہ اب اس مسئلہ پر عام شہری بھی متفکر ہونے لگے ہیں کیونکہ جی او 111کے تحت آنے والے علاقوں میں کئے جانے والے اراضیات کے قبضوں کے سبب اتنی بڑی تباہی کا سامنا شہریوں کو کرنا پڑا جس کی وجہ سے کئی اموات واقع ہوئی ہیں۔ شہر حیدرآباد میں موجود تالابوں کی تباہی اور تالابوں کی گذرگاہوں کو بند کئے جانے کے سبب ہونے والی مشکلات کے سبب رہائشی علاقوں میں پانی داخل ہوا جس کے سبب کئی مکانات منہدم ہونے کے علاوہ ہزاروں مکینوں کو بارش کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں عہدیداروں کے مطابق 190 تالاب موجود ہیں لیکن ان میں کئی تالابوں کی گذرگاہوں کو بند کردیا گیا جن میں پلے چیروو‘ گرم چیروو‘ سرم چیروو اور سلم چیروو بھی شامل ہیں۔الجبیل کالونی میں بارش کا پانی داخل نہیں ہوا بلکہ پلے چیروو کا پشتہ ٹوٹنے سے جو پانی خارج ہوا وہ اس سیلاب نے الجبیل کالونی ‘ سبحان کالونی اور غازیٔ ملت کالونی میں تباہی مچائی اسی طرح اب جو حافظ بابا نگر میں پانی داخل ہورہا ہے وہ گرم چیروو کی گذرگاہوں کو بند کئے جانے کے سبب داخل ہورہا ہے اور گرم چیرو کے علاوہ سلم چیروو اور سرم چیروو پر جاری قبضوں اور انہیں مسطح کئے جانے کے سبب یہ تباہ کن صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ جہانگیر آباد‘ بندلہ گوڑہ‘ غوث نگر‘ عثمان نگر کے علاوہ بندلہ گوڑہ کے عقبی علاقوں کی بستیوں میں پانی جمع ہونے کی وجوہات کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آئے گی کہ بندلہ گوڑہ کے علاقہ میں موجود کئی تالابوں کو بند کرتے ہوئے انہیں فروخت کردیا گیا ہے اور کئی بستیاں تالابوں پر بسائی گئی ہیں اور کئی بستیوں کا وجود تالابوں کی گذرگاہوں پر ہے بلکہ کئی اہم شخصیتوں اور عوامی نمائندوں کی جائیدادیں بھی ان تالابوں پر تعمیر کی گئی ہیں جو کہ شہریوں کے لئے انتہائی تکلیف کا سبب بنی ہیں۔ بندلہ گوڑہ کے علاقہ میں جو تالاب ہوا کرتے تھے ان تالابوں کی گذرگاہوں کو بند کئے جانے کے نتیجہ میں اطراف و اکناف کی بستیوں میں پانی داخل ہوا جس کے نتیجہ میں کئی شہریوں بشمول معصوم بچوں کے بہہ جانے کے حادثات پیش آئے۔ شہر حیدرآباد میں تالابوں کو ملبہ سے بند کرتے ہوئے ان کو فروخت کیا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن تین یوم قبل ہونے والی تباہ کن بارش نے مفادات حاصلہ کی ان کامیاب کوششوں کے نقصانات کو عوام پر عیاں کردیا ہے ۔سپریم کورٹ نے تالابوں کے تحفظ کے سلسلہ میں ایک اہم ترین مقدمہ ہنچ لعل تیواری میں اس بات کی صراحت کی تھی کہ ضروری نہیں ہے کہ ہر تالاب ہمیشہ لبریز رہے لیکن تالاب کے طاس اور شکم کی حفاظت عہدیداروں اور متعلقہ اتھاریٹی کی ذمہ داری ہے ۔ بندلہ گوڑہ علاقہ میں عہدیداروں کی اس لاپرواہی اور ان اہم تالابوں کے راستوں کو بند کئے جانے کے نتیجہ میں آنے والی اس تباہی کو مستقبل میں روکنے کیلئے لازمی ہے کہ شہر حیدرآباد میں حکومت کی جانب سے مشن کاکتیہ کے تحت مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود تمام تالابوں کو بازیافت کرتے ہوئے ان کی بحالی کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور بارش کی صورت میں تالابوں میں پانی کے جمع ہونے کے علاوہ ان کی گذرگاہوں کو بحال کرنے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی حادثہ پیش نہ آئے جن میں بے قصور و معصوم شہریوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑے۔ شہر حیدرآباد میں برساتی نالوں کے پانی کے بہاؤکے مسئلہ کو حل کرنے کے حکومت کی جانب سے اعلانات کئے جا رہے ہیں لیکن برساتی نالوں کے ذریعہ بہنے والے پانی کے مسئلہ کو صرف نالوں کی صفائی کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے مگر برسات کے دوران جو پانی زمین پر پہنچ کر تالابوں میں جمع ہوتا ہے اگر ان کی جگہ باقی نہ رکھی جائے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔ تالابوں کو بند کرتے ہوئے ان اراضیات کو فروخت کرنا بستیاں بسانا نہیں ہے بلکہ شہریوں کو تالاب میں دھکیلنے کے مترادب ہے بلکہ یہ عمل نظام قدرت سے کھلواڑ کے مماثل ہے اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو کوئی بھی طاقت ‘ محکمہ یا ادارہ شہریوں کو پانی کے بہاؤ سے محفوظ نہیں رکھ پائے گا۔