جی ایس ٹی کے نقصانات پر کے سی آر مرکز سے خوفزدہ: محمد علی شبیر

   

حیدرآباد میں ناراضگی ، دہلی میں خاموشی، جی ایس ٹی کی مودی اور جگن نے تائید کی تھی
حیدرآباد۔24۔ ستمبر (سیاست نیوز) سابق وزیر اور قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے تلنگانہ اور آندھراپردیش کے چیف منسٹرس سے سوال کیا کہ وہ جی ایس ٹی کے نقصانات پر مرکز سے احتجاج کے سلسلہ میں خوفزدہ کیوں ہیں؟ محمد علی شبیر نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ اور وائی ایس جگن موہن ریڈی نے کل اپنی ملاقات کے دوران جی ایس ٹی کے نتیجہ میں دونوں تلگو ریاستوں پر پڑنے والے مضر اثرات اور نقصانات کے بارے میں شکایات کی۔ انہوں نے کہا کہ جب کانگریس پارٹی نے جی ایس ٹی کی مخالفت کی تھی ، اس وقت دونوں چیف منسٹرس نے وزیراعظم نریندر مودی کی تائید کی ۔ آج بھی یہ دونوں حیدرآباد میں جی ایس ٹی کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں لیکن دہلی میں اپنا احتجاج درج کرانے سے گریز کر رہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ دونوں چیف منسٹرس کا دوہرا معیار دراصل عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ اگر واقعی جی ایس ٹی کے نقصانات سے دلچسپی ہو تو دونوں ریاستوں کو مشترکہ طور پر اپنا احتجاج درج کرانا چاہئے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ٹی آر ایس اور وائی ایس آر کانگریس نے مرکزی حکومت کے ہر فیصلہ کی تائید کی۔ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی جیسے فیصلوں کے نقصانات آج منظر عام پر آرہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے ناعاقبت اندیش فیصلوں کے ذریعہ ملک کی معیشت کو کمزور کردیا ہے۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں جو بحران کا شکار نہ ہو۔ لاکھوں افراد روزگار سے محروم ہونے سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پیداواری شعبہ کی صورتحال ٹھیک نہیں۔ جی ڈی پی کی شرح انتہائی گھٹ چکی ہے۔ حکومت کارپوریٹ شعبہ کو ٹیکس رعایتوں کے ذریعہ معیشت کو بچانا چاہتی ہے لیکن یہ ممکن نہیں ہے ۔ کارپوریٹ شعبہ ان رعایتوں سے ابھر نہیں پائے گا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ معاشی ابتر صورتحال کے نتیجہ میں تلنگانہ کے بجٹ کو کم کردیا گیا اور کئی اہم شعبہ جات کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ۔ چیف منسٹر نے اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے معاشی ، بدحالی کے لئے مرکز کو ذمہ دار قرار دیا لیکن وہ اس سلسلہ میں دہلی میں احتجاج درج کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے اندر یا پھر پرگتی بھون میں پڑوسی ریاست کے چیف منسٹر کے ساتھ بیٹھ کر جی ایس ٹی کے نقصانات اور مرکزی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگر دونوں ریاستیں واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں متحدہ طور پر مرکز سے اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے عوام کو یہ پیام دینا چاہئے کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بدحالی کے باوجود کے سی آر آبپاشی پراجکٹ پر بھاری رقومات خرچ کر رہے ہیں جبکہ فلاحی اسکیمات کو نظر انداز کردیا گیا۔