جی ایچ ایم سی الیکشن کے رائے دہی کے تناسب میں کمی کا امکان، ورک فرم ہوم کے باعث کئی افراد آبائی مقامات روانہ

   

حیدرآباد۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات میں رائے دہی کے فیصد میں مزید گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی !گذشتہ بلدی انتخابات یعنی 2016 میں ہوئے بلدی انتخابات میں رائے دہی کا فیصد45.04 ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن اب جبکہ انتخابات کے لئے اعلامیہ جاری کیا جا چکا ہے تو سیاسی جماعتوں کو اس بات کی فکر لاحق ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور کارپوریٹ اداروںکے علاوہ آئی ٹی کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والے رائے دہندے جو گھر سے کام کاج کی اجازت کے سبب اپنے اپنے آبائی مقامات کو روانہ ہو چکے ہیں وہ رائے دہی کیلئے نہیں پہنچیں گے جس کے سبب رائے دہی کے فیصد میں مزید گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کا خدشہ ہے۔ آئی ٹی کمپنیو ںمیں جہاں ملازمین کو کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد سے گھر سے کام کاج کی اجازت کا اعلان کیا گیا ہے اس کے نتیجہ میں ملازمین کی بڑی تعداد اپنے آبائی مقامات سے خدمات انجام دے رہی ہے جس کے نتیجہ میں رائے دہی کے فیصد میں گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کا خدشہ ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین اور مقامی کارکنوں کی جانب سے ان رائے دہندوں کی تفصیلات حاصل کی جانے لگی ہیں جو فی الحال شہر میں نہیں ہیں اور اپنے آبائی مقامات سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں بلدی انتخابات کے انعقاد کے فیصلہ کے ساتھ ہی ماہرین کی جانب سے شہر حیدرآباد میں مخلوعہ فلیٹس اور مکانات جہاں آئی ٹی کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والوں کے علاوہ بیرونی شہری جو کہ شہر حیدرآباد میں بہ حیثیت رائے دہندہ اپنا اندراج کروائے ہوئے ہیں ان کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔ شہر حیدرآباد کی تمام سیاسی جماعتو ںکو رائے دہی کے فیصد میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ سے تشویش ہے لیکن اس کے باوجود شہر حیدرآباد کے عوام میں رائے دہی میں حصہ لینے کے رجحان میں اضافہ نہیں ہورہا ہے جبکہ ریاستی الیکشن کمیشن کے علاوہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے رائے دہندوں میں شعور اجاگر کرنے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ یکم ڈسمبر کو منعقد ہونے والے انتخابات میں بھی رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کے لئے نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ جی ایچ ایم سی اور ریاستی الیکشن کمشنر کی جانب سے شعور بیداری مہم چلائی جائے گی۔ماہرین اس بات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں کہ انتخابات میں رائے دہی کے فیصد پر گھر سے کام کاج کا کتنا اثر مرتب ہوگا!