متوفیوں کے لواحقین کو مشکلات کا سامنا ، ہزارہا درخواستیں التوا کا شکار
حیدرآباد۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے صداقتنامۂ موت جاری کرنے میں کی جانے والی کوتاہی کئی متوفیوں کے لواحقین اور پسماندگان کیلئے مشکل کا سبب بن سکتی ہے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ساؤتھ سرکل میں صداقتنامۂ موت کے حصول میں ہونے والی مشکلات کو حل کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ نہیں ہے اور نہ ہی عوامی نمائندوں کی جانب سے اس مسئلہ کے حل کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا جارہا ہے۔ چارمینار زون میں داخل کی گئی درخواستوں کے یکسوئی کے معاملہ میں کی جانے والی کوتاہی اور لاپرواہی کا شکار معصوم عوام بننے لگے ہیں جبکہ جو لوگ درمیانی افراد کے ساتھ عہدیداروں سے رجوع ہونے لگے ہیں ان کی درخواستوں کی یکسوئی کرنے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی جا رہی ہے۔ ریاستی حکومت اور بلدیہ کے عہدیداروں کی جانب سے یہ اعلانات کئے جاتے ہیں کہ صداقتنامۂ موت و پیدائش کی آن لائن اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے لیکن عملی اعتبار سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ شہر حیدرآباد کے پرانے شہر میں حالیہ عرصہ میں صرف ان لوگوں کے صداقتنامۂ اموات جاری کئے گئے ہیں جو درمیانی افراد کے ذریعہ دفاتر میں داخل کئے گئے تھے اور جو لوگ شخصی طور پر اپنی درخواستیں داخل کئے ہیں ان کی زائد از 6500 درخواستیں صرف چارمینار بلدی زون میں زیر التواء ہیں اور ان کی یکسوئی کے سلسلہ میں کوئی کاروائی نہیں کی جار ہی ہے بلکہ یہ کہا جا رہاہے کہ بلدیہ کے پاس عملہ نہیں ہے اسی لئے وہ ان درخواستوں کی یکسوئی کے موقف میں نہیں ہیں۔ شہر حیدرآباد میں سال گذشتہ ماہ مئی ‘جون اور جولائی کے دوران ہونے والی اموات کے صداقت ناموں کے حصول کیلئے داخل کی گئی درخواستوں کی تاحال یکسوئی نہیں ہوئی ہے اور ہزاروں درخواستوں کے متعلق اب تک بھی یہ کہا جا رہاہے کہ اموات کی تصدیق کے لئے کئے جانے والی جانچ تک نہیں کروائی گئی ہے اور ہزاروں ایسی درخواستیں بھی زیر التواء ہیں جن کی تنقیح اور جانچ کے علاوہ اموات کی تصدیق بھی کرلی گئی ہے لیکن اس کے باوجود اب تک صداقتنامہ کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے ۔ جن درخواستوں کے تمام امور مکمل ہوچکے ہیں انہیں آن لائن کرنے میں کوتاہی کی جا رہی ہے اورکہا جارہا ہے کہ آن لائن کرنے والا تکنیکی عملہ موجود نہ ہونے کے سبب جن درخواستوں کی یکسوئی کردی گئی ہے ان کے صداقتنامۂ اموات کو آن لائن نہیں کیاجا رہا ہے ۔جی ایچ ایم سی کی جانب سے خدمات کو آن لائن کرنے کے علاوہ شہر حیدرآباد و ریاست تلنگانہ میں ٹیکنالوجی کا مرکز بنانے کے اعلان کرنے والی حکومت میں صداقتنامہ ٔ اموات اور پیدائش کی اجرائی میں کی جانے والی تاخیر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاست میں کس حد عوام کی جانب سے داخل کی جانے والی درخواستوں کی یکسوئی فوری طور پر کی جاتی ہے۔