جی ایچ ایم سی کے ٹاون پلاننگ شعبہ پر کورونا کا اثر

   

عمارتوں کی تعمیرات کے لیے منظوریوں میں 300 کروڑ کی آمدنی گھٹ گئی
حیدرآباد :۔ کورونا اور لاک ڈاؤن کے اثرات دوسرے شعبوں کی طرح جی ایچ ایم سی کے ٹاون پلاننگ آمدنی پر بھی مرتب ہوئے ہیں ۔ گذشتہ سال یکم جنوری تا 28 دسمبر تک عمارتوں کی تعمیری منظوریاں اور دیگر فیس کے ذریعہ 986.64 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی ۔ جاریہ مالیاتی سال یہ آمدنی گھٹ کر 685.81 کروڑ تک محدود ہوگئی ۔ یعنی 300 کروڑ روپئے کی آمدنی کم ہوگئی ہے ۔ عوامی روزگار کے پروگرامس کی تعداد گھٹ جانے ، روزگار کے مواقع کم ہوجانے ، مزدوروں کی قلت ، رئیل اسٹیٹ کا کاروبار ٹھپ ہوجانے کی وجہ سے ، شدید بارش اور سیلاب کی وجہ تعمیری سرگرمیوں پر اس کا گہرا اثر پڑا ہے ۔ عمارتوں کی تعمیرات کے لیے بھی کم درخواستیں وصول ہوئی جس سے ٹاون پلاننگ شعبہ کی آمدنی گھٹی ہے ۔ رواں سال یکم جنوری سے ابھی تک 10,541 عمارتوں کی تعمیرات کے لیے منظوریاں دی گئی جب کہ گذشتہ سال 16.801 عمارتوں کی تعمیرات کے لیے منظوریاں دی گئی جس کی وجہ سے 300 کروڑ روپئے کی آمدنی گھٹ گئی ہے ۔۔