جی۔20 کو عالمی چیلنجوں کا حل تلاش کرنے اعتماد کے بحران کو دور کرناہوگا:مودی

,

   

انسانیت کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے ہندوستان کا پیغام‘ وزیر اعظم ہندکاچوٹی کانفرنس سے خطاب
مراقش میں زلزلہ سے ہونے والی اموات پر اظہار رنج‘ ہر ممکن مدد کی فراہمی کا اعلان

نئی دہلی: انسانیت کی فلاح و بہبود اور خوشی کو یقینی بنانے کے ہندوستان کے پیغام کے ساتھ آج نئی دہلی میں جی 20 چوٹی کانفرنس شروع ہوئی، جس میں ہر قسم کی باہمی بداعتمادی کو دور کر کے تمام عالمی چیلنجوں کے ٹھوس حل کی طرف بڑھنے کی اپیل کی گئی۔ دہلی کے پرگتی میدان میں نوتعمیر شدہ بھارت منڈپم میں ہندوستان کی صدارت میں 19 ممالک، یورپی یونین، 9 خصوصی مہمان ممالک، تین علاقائی اور 11 بین الاقوامی تنظیموں کے قائدین اور نمائندے حصہ لے رہے ہیں۔’ ون ارتھ‘ کے تھیم پر منعقد ہونے والے اس سیشن میں افریقی یونین کو باضابطہ طور پر مکمل رکن کے طور پر تسلیم کیا گیا!وزیر اعظم نریندر مودی نے مہمان رہنماؤں کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے افتتاحی بیان میں سب سے پہلے مراقش میں زلزلے میں ہونے والی ہلاکتوں پر تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی اور بحران کی اس گھڑی میں مراقش کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جی-20 کے سربراہ کے طور پر، ہندوستان آپ سب کا پرتپاک خیر مقدم کرتا ہے۔ اس وقت جس جگہ ہم جمع ہوئے ہیں یہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر تقریباً ڈھائی ہزار سال پرانا ستون ہے جس پر پراکرت زبان میں لکھا ہے انسانیت کی فلاح و بہبود اور خوشی ہمیشہ یقینی بنائی جائے۔ آئیے اس پیغام کو یاد کرکے اس جی-20 سربراہی اجلاس کا آغاز کریں۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ وہ وقت ہے جب برسوں پرانے چیلنجز، ہم سے نئے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ19 کے بعد دنیا میں ایک بہت بڑا بحران اعتماد کی کمی کا آیا ہے۔ جنگ نے، اس اعتماد کے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ جب ہم کووڈ کو شکست دے سکتے ہیں تو ہم باہمی اعتماد کے اس بحران پر بھی قابو پا سکتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج، جی۔20 کے صدر کے طور پر، ہندوستان پوری دنیا سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم سب مل کر سب سے پہلے اعتماد کے اس عالمی بحران کو ایک یقین، ایک بھروسے میں تبدیل کریں۔ یہ سب کے ساتھ مل کر چلنے کا وقت ہے اور اس لیے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس‘ کا منتر ہم سب کے لیے مشعل راہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت میں اتھل پتھل ہو، شمال جنوب کی تقسیم ہو، مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہو، خوراک، ایندھن اور کھادوں کا انتظام ہو، دہشت گردی اور سائبر سیکیورٹی ہو، صحت، توانائی اور پانی کی حفاظت ہو! موجودہ اور آنے والی نسلوں کی خاطر ہمیں ان چیلنجوں کے ٹھوس حل کی طرف بڑھنا ہی چاہیے۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کی جی-20 صدارت ملک کے اندر اور باہر شمولیت کا، “سب کا ساتھ” کی علامت بن گئی ہے۔ ملک کے 60 سے زیادہ شہروں میں 200 سے زیادہ میٹنگیں منعقد ہوئیں۔ سب کا ساتھ کے جذبے کے تحت ہندوستان نے افریقی یونین کو جی-20 کی مستقل رکنیت دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ مانا جاتا ہے کہ اس تجویز پر ہم سب کی اتفاق رائے ہے۔اس کے بعد وزیر اعظم مودی نے افریقی یونین کے چیئرمین کو جی 20 کے مستقل رکن کے طور پر اپنی نشست سنبھالنے کی دعوت دی۔
جی 20 سمٹ :لیڈرس ڈکلیریشن پر اتفاق رائے
نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی میں منعقدہ G20 سربراہی اجلاس میں ہندوستان نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ نئی دہلی جی 20 لیڈر سمٹ کے اعلامیہ پر اتفاق رائے قائم ہو گیا ہے۔ ہفتہ کو اس کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی لیڈروں پر زور دیا کہ وہ لیڈر شپ ڈکلریشن کو اپنائیں۔وزیراعظم مودی نے ہفتہ کی شام پریس کانفرنس میں کہا کہ ایک اچھی خبر ملی ہے کہ ہماری ٹیم کی محنت اور آپ سبھی کے تعاون کی وجہ سے جی 20 لیڈرس سمٹ کے اعلامیہ پر اتفاق قائم ہوگیا ہے۔ میری تجویز ہے کہ لیڈرس ڈکلریشن کو بھی اپنایا جائے۔ میں بھی اس اعلامیہ کو اپنانے کا اعلان کرتا ہوں۔وزیراعظم مودی نے نئی دہلی میں 18ویں جی 20 چوٹی کانفرنس کے دوسرے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ اس موقع پر میں اپنے وزراء کو مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے اس کے لئے سخت محنت کی اور اسے ممکن بنایا۔وہیں ہندوستان کے G20 شیرپا امیتابھ کانت نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (پہلے ٹویٹر کے نام سے جانا جاتا تھا) پر اعلان کیا کہ نئی دہلی لیڈرز ڈکلیریشن کو سرکاری طور پر G20 انڈیا لیڈرز سمٹ میں اپنا لیا گیا ہے۔
امیتابھ کانت نے کہا کہ آج کے دور کو انسانوں پر مرکوز عالمگیریت کے سنہرے دور کے طور پر نشان زد کیا جانا چاہیے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی G20 صدارت نے اس مقصد کے لئے انتھک محنت کی ہے۔’