جے این یو طلبہ پر وحشیانہ حملے پر شدید غم و غصہ کا اظہار

   

Ferty9 Clinic

یونیورسٹی کے زخمی طلبہ ، اساتذہ اور عملہ سے اظہار یگانگت ، نظام آباد میں ایس آئی او کا دھرنا

نظام آباد :7؍ جنوری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نقاب پوش غنڈوں اور اے بی وی پی سے وابستہ غنڈوں کے ذریعہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی پر ہونے والے وحشیانہ حملے کو کسی بھی طرح برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ایس آئی او جے این یو برادری کے ساتھ کھڑی ہے، خاص طور پر زخمی طلباء، اساتذہ اور دیگر عملہ سے جو اس حملے سے متاثر ہوئے ہیں، ان سے ہم یگانگت کرتے ہیں۔ ان مطالبات کو لے کر ایس آئی او نظام آباد نے شہر کے نہرو پارک پر شام 7 بجے ایک کینڈل لائیٹ احتجاج منظم کیا جس میں بڑے پیمانے پر طلباء و طالبات، مرد و خواتین نے شرکت کرتے ہوئے اپنے غم و غصہ کا اظہا رکیا۔ اس موقع پر صدر ایس آئی او ، نظام آباد برادر مطیع الرحمٰن دائودی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جے این یو کے طلباء اپنی ہاسٹل کی فیسوں میں غیر معقول اضافے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور انتظامیہ نے اس سے قبل طالب علم کے جائز خدشات کا جواب دیئے بغیر اسے دبانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ ایک نئے ہندوستان کے تعلیمی اداروں کی تاریخ میںکا یہ ایک تاریک دن ہے۔ انھون نے مزید کہا کہ جب جے این یو کا نام آتا ہے تو ساتھ ہی نجیب احمد کا نام بھی جڑ جاتا ہے جنھیں اِن ہی اے بی وی پی کے غنڈوں نے تین سال قبل مار کر غائب کردیا جن کا آج تک کوئی پتہ نہیں۔ اس موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پولیس کی جانب سے جو غنڈہ گردی کی گئی اس کے خلاف بھی ہم اپنی آواز بلند کرتے ہیں، ساتھ ہی اتر پردیش میں بی جے پی حکومت کی نگرانی میں عوام پر جو ظلم و ستم کیا جارہا ہے اس کے خلاف بھی سخت ایکشن لینے اور چیف منسٹر کی برخاستگی کا ہم مطالبہ کرتے ہیں۔ اس موقع پر ایم این بیگ زاہد صاحب (ریاستی سکریٹری، جماعت اسلامی تلنگانہ) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس طلبہ کے سوالات کے جوابات نہیں ہیں، اسی لئے وہ طلبہ پر ظلم کر رہی ہے، گزشتہ دنوں جامعہ ملیہ اسلامہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پولیس کے ذریعہ ایسا کیا گیا اور اب جے این یو میں اے بی وی پی کے غنڈوں کے ذریعہ اس قسم کی غنڈہ گردی کی گئی ہے۔ صدر جمعتہ علماء حافظ لئیق احمد نے کہا کہ اس پوری تحریک کو طلبہ لے کر چل رہے ہیں اور قابلِ مبارکباد ہیں یہ طلبہ جو اس ظلم کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ گرلز اسلامک آرگنائزیشن کے مقامی صدر الوفہ نجود قمر نے کہا کہ یہ حکومت عوام کے ووٹوں کے ذریعہ اقتدار میں آئی ہے ، اور عوام پر ہی ظلم کررہی ہے۔ آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسی ایشن کے سکریٹری محترمہ اسماء زرین نے کہا کہ حکومت طلبہ کو نشانہ اس لئے بنارہی ہے کیون کہ یہ حکومت کی غلط پالیسیوں پر سوا ل کرتے ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کرتے ہیں،انور خان( صدر ویلفئر پارٹی) نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں لڑکیوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے جو اس ظلم کے خلاف آواز بلند کررہی ہیں، ان کی یہ آواز آسانی سے دبائی نہیں جاسکتی۔ مسلم لیگ کے سکریٹری عبدالغنی نے بھی طلبہ کے ساتھ اظہار یگانگت کی۔ برادر محمد فراز احمد (سٹی سکریٹری ) نے اختتام پر کہا کہ ہندوستان کے طلباء اور نوجوانوں کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ اس بل کو واپس نہیں لیا جائے گا، ایس آئی اوآخری وقت تک اس ظلم کے خلاف کھڑی رہے گی اور طلبہ برادی کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ اس موقع پر SFI، جماعت اسلامی، ایس آئی او، جی آئی او کے ذمہ داران کے علاوہ دیگر مذہبی، سیاسی و سماجی جماعتوں کے ذمہ داران اور طلبہ و نوجوانوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔