حاضری سے مستقل استثنیٰ کیلئے راہول گاندھی کی درخواست

   

ہتک عزت کیس میں مجسٹریٹ عدالت کا یکم اپریل کو فیصلہ متوقع

ممبئی : ممبئی کی مجسٹریٹ عدالت یکم اپریل کو کانگریس قائد راہول گاندھی کی درخواست پرفیصلہ سنائے گی جس میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سکریٹری کی طرف سے ان کے خلاف جاری ہتک عزت کی کارروائی میں حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست کی گئی ہے۔ایڈوکیٹ نارائن ایر نے راہول گاندھی کی جانب سے ایک درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت میں حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ ایل سی۔ واڈیکر یکم اپریل کو درخواست پر حکم جاری کریں گے اور معاملے کو آگے بڑھائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق6 مارچ 2014 کو راہول گاندھی نے بھیونڈی میں ایک تقریر کرتے ہوئے آر ایس ایس کو مہاتما گاندھی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ آر ایس ایس والوں نے گاندھی جی کو مارا اور آج ان کے لوگ (بھارتیہ جنتا پارٹی) ان کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے سردار پٹیل اور گاندھی جی کی مخالفت کی۔ اس کے فوراً بعد آر ایس ایس کی بھیونڈی یونٹ کے سکریٹری راجیش کنٹے نے راہول گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔6 دسمبر، 2018 کو، راہول گاندھی بھیونڈی کی ایک مقامی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔اس کے بعد عدالت نے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ سے کہا تھا کہ آپ نے شکایت کنندہ کی تنظیم کو بدنام کیا ہے اور کہا ہے کہ آر ایس ایس کے لوگوں نے گولی ماری ۔ اس لیے سیکشن 499 اور سیکشن 500 کے تحت شکایت کنندہ اور تنظیم کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ راہول گاندھی نے جواب دیا کہ میں قصوروار نہیں ہوں۔اپریل 2022 میں، ایک مجسٹریٹ عدالت نے کیس میں التوا طلب کرنے پر کنٹے کے خلاف 1,000 روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ راہول گاندھی 16 نومبر 2016 سے شیوراج پاٹل کی ذاتی ضمانت پر ہیں ۔