لاکھوں مرتبہ آیت کریمہ کا ورد اور قنوت نازلہ کا اہتمام l موجودہ صورت حال مساجد بھر و تحریک کی متقاضی
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : مودی حکومت نے ملک میں جو شہریت ترمیمی قانون نافذ کیا ہے اور این آر سی و این پی آر پر عمل آوری کرنے کی تیاریاں کررہی ہیں ۔ دراصل یہ سیاہ قوانین بیماریوں کی طرح ہندوستانی باشندوں کا تعاقب کررہی ہیں اور سارے معاشرہ میں بے چینی کا ایک ماحول پایا جاتا ہے ۔ جس طرح بیماریوں کا علاج دوا اور دعا کے ذریعہ کیا جاتا ہے ۔ اس طرح عوام بالخصوص مسلمان حکومت کی عوام دشمنی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ منظم کرتے ہوئے اس کی دوا اور تعلیمی فلاحی خیراتی اور مذہبی اداروں میں دعاوں کے ذریعہ اس سے بچاؤ کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ دعا تقدیر بدل دیتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دعا کو دین اسلام میں عبادت کا مغز کہا گیا ہے ۔ ویسے بھی انسان ظالموں کے ظلم مصیبتوں و پریشانیوں اور مشکل ترین حالات میں اپنے رب سے بہت قریب ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دربار میں گڑگڑا کر دعائیں مانگتا ہے ۔ ہمارے وطن عزیز میں بھی مودی حکومت کی پیدا کردہ ان بیماریوں کا علاج احتجاجی مظاہروں ( دوا ) اور دعاوں کے ذریعہ کیا جارہا ہے ۔ بین مذاہب دعائیہ اجتماعات کا اہتمام بھی ہورہا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں عالم اسلام کی عظیم دینی درس گاہ کے بشمول بے شمار دینی مدارس ہیں جن میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے ۔ ملک اور قوم پر جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تب دین کے یہ قلعے یعنی دینی مدارس کے طلباء وطالبات اپنی دعاؤں کو ملت کے تحفظ کی ڈھال بنا دیتے ہیں ۔ بہر حال آپ کو بتادیں کہ ہمارے شہر حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میں واقع خانگی اسکولس اور دینی مدارس میں طلبہ روزانہ لاکھوں مرتبہ آیت کریمہ ، استغفراللہ ، لاحول و لاقوۃ الاباللہ العلی العظیم ، حسبنااللہ و نعم الوکیل جیسے اذکار کا ورد کیا جارہا ہے ۔ ہم نے شہر کے ایک مشہور و معروف دینی مدرسے کے ایک ذمہ دار سے بات کی ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے مدرسہ میں روزانہ اسمبلی اور ترانہ کے بعد 1.25 لاکھ مرتبہ طلباء آیت کریمہ کا ورد کررہے ہیں ۔ نماز فجر میں قنوت نازلہ کا اہتمام کیا جارہا ہے اور ظہر میں بھی وظائف پڑھے جارہے ہیں ۔ بعد نماز عشاء حسبنااللہ و نعم الوکیل پڑھا جارہا ہے ۔ ان صاحب نے مزید بتایا کہ موجودہ صورتحال میں اگرچہ مودی حکومت مذہبی بنیادوں پر عوام کو تقسیم کرنے میں مصروف ہے اور اپنے ناپاک سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے سیاہ قوانین متعارف کرواتی جارہی ہے ۔ ان حالات میں اقلیتوں اور دلتوں کو جمہوری انداز میں اپنی آواز بلند کرنی چاہئے ۔ احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ حکومت کو یہ احساس دلانا چاہئے کہ نفرت کی سوداگری سے ملک کا بھلا نہیں ہونے والا ہے ۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کے بارے میں ایک ممتاز عالم دین کے حوالے سے بتایا کہ مساجد ویران ہیں اور بازاروں میں رونق پائی جاتی ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایسے میں آج مساجد بھرو تحریک کی ضرورت ہے ۔ ایک خانگی اسکول کے ذمہ دار نے بتایا کہ ملک میں نفرت کی لہر اور اس کی سوداگری کے خلاف اسکول کے معصوم طلباء وطالبات روزانہ لاکھوں مرتبہ استغفراللہ اور لاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم کا ورد کررہے ہیں ۔ کئی ایک مدارس کے ذمہ داروں نے بھی ہمیں یہی باتیں بتائی ۔ بہرحال اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات اور صورتحال کو لیکر اسکولی اور دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ بھی فکر مند ہیں ۔۔