نئی دہلی۔ ہندوستان نے حال ہی میں ختم ہونے والی آئی بی اے خواتین کی عالمی باکسنگ چمپئن شپ میں بھلے ہی چار گولڈ میڈلجیتے ہوں، لیکن 2024 پیرس اولمپکس کے لیے اہلیت کے منظر نامے کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان مقابلہ کرنے والوں کے لیے آگے کا راستہ مشکل ہے۔ ہندوستان نے اتوارکو قومی راجدھانی میں اختتام پذیر ہونے والی عالمی چمپئن شپ میں سب سے زیادہ گولڈ میڈل (چار) جیت کر ایک شاندار مہم کو ختم کیا۔ اسٹار باکسر نکہت زرین اور لولینا بورگوہین نے یہاں اندرا گاندھی اسپورٹس کمپلیکس میں ہونے والے فائنل میں متضاد فرق سے شاندار جیت درج کی۔ ایشین گیمز اور اولمپکس جیسے بڑے ٹورنمنٹس میں مقابلہ بہت سخت ہوتا ہے۔ ورلڈ چمپیئن شپ میں ہندوستانی مکے بازوں کو میگا ایونٹ کا آغاز کرنے کے لیے آسان ڈرا دیا گیا۔ لولینا کا مقابلہ وینیسا سیٹلی سے تھا، نکہت کا مقابلہ اناخانیم اسمائیلیوا کے خلاف تھا۔ منیشا مون اور سویٹی بوراکو بائی ملا اور انہوں نے براہ راست دوسرے راؤنڈ سے اپنی مہم شروع کی۔ لولینا، نکہت اور سویٹی نے مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا کیونکہ تینوں نے میگا ایونٹ میں گولڈ میڈلجیتا۔ 2022 کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والی نیتو گھنگھاس نے بھی گولڈ میڈل جیت کر ہندوستان کی تعداد میں اضافہ کیا۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بہت سے بڑے ممالک نے حال ہی میں ختم ہونے والی چمپئن شپ میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ مزید یہ کہ 2024 پیرس اولمپک گیمز کے لیے اہلیت کا منظر نامہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ جبکہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی ) نے آئی بی اے خواتین کی عالمی باکسنگ چمپئن شپ کو تسلیم نہیں کیا ہے، انٹرنیشنل باکسنگ اسوسی ایشن (آئی بی اے) کے صدر عمر کریملیو نے واضح کیا ہے کہ آئی او سی آئی بی اے سے اجازت لیے بغیر اولمپک کوالیفائر نہیں کر سکتا۔ ہندوستان کی اسٹار باکسر میری کوم (40) نے راہکو مزید مشکل بنا دیا ہے، جو اب بھی اولمپکس میں حصہ لینا چاہتی ہے حالانکہ وہ اپنی عمرکے پیش نظر شاید یہ نہیں کر پائیں گی۔ میری کوم جو 2023 خواتین کی عالمی باکسنگ چمپئن شپ کی برانڈ ایمبیسیڈر تھیں، انہوں نے اس سال ایشین گیمز میں شرکت کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے اس سے پہلے کہ وہ اس کھیل سے باضابطہ کنارہ کشی اختیار کرچکی ہیں۔ ہندوستانی باکسروں کی کارکردگی نے یقینی طور پر عالمی چمپئن شپ میں اپنی شناخت بنائی۔ تاہم فٹ رہنے اور زخموں سے لڑنے کے چیلنج کو ذہن میں رکھتے ہوئے، پیرس 2024 کی راہ ان کے لیے آسان نہیں ۔