ماہ رمضان المبارک کے بعد باضابطہ احکام کی اجرائی کا امکان، انتظامات کیلئے وقت کافی کم ہونے کا استدلال
حیدرآباد۔16مئی(سیاست نیوز) حج 2020 مقامی سعودی شہریوں اور دنیا کے مختلف ممالک کے مہمان سرکاری وفود پر مشتمل ہوگا!ماہ رمضان المبارک کے اختتام کے ساتھ ساتھ حج بیت اللہ کے سلسلہ پیش قیاسی کی جانے لگی ہے اور کہاجا رہاہے کہ حکومت سعودی عرب کی جانب سے کورونا وائرس کے پیش نظر کئے جانے والے اہم فیصلوں میں حج بیت اللہ کے انتظامات کے سلسلہ میں کیا جانے والا اہم فیصلہ ماہ رمضان المبارک کے فوری بعد منظر عام پر آجائے گا کیونکہ سعودی حکومت کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ اب حکومت کے پاس حج بیت اللہ کے انتظامات کے لئے وقت بھی نہیں ہے اور تمام ممالک جہاں سے عازمین حج مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں ان کے پاس بھی وقت نہیں ہے کہ وہ اپنی تیاریوں کو مکمل کریں اسی لئے سعودی حکام کی جانب سے مختلف متبادل پر غور کیا جار ہاہے جس میں حکومت سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ کے علاوہ دیگر وزارتوں کے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی تجاویز روانہ کریں ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حج 2020 کے سلسلہ میں سعودی حکام کی جانب سے تیار کردہ منصوبہ کے مطابق مقامی سعودی شہریوں کو محدود تعداد میں اجازت کی فراہمی کے علاوہ حج بیت اللہ کے لئے سعودی عرب پہنچنے والے مختلف ممالک کے شہریوں کی نمائندگی کے لئے ان ممالک کے مہمان وفود کو مدعو کیا جائے گا لیکن اس کیلئے سخت شرائط رکھے جائے گے جن میں وفد میں شامل عازمین حج کی عمر اندرون 50سال ہونی لازمی ہوگی اور اس کے علاوہ ان کا کورونا وائرس ٹسٹ کیا جائے گا اور معائنہ منفی آنے کی صورت میں ہی انہیں سفرکی اجازت دی جائے گی۔حکومت سعودی عرب کی جانب سے دنیا بھر کی تمام حکومتوں اور حج کمیٹیوں کے ذمہ داروں کو اس بات کے احکام جاری کئے جاچکے تھے کہ وہ حج بیت اللہ کے سلسلہ میں کوئی بھی معاہدہ کسی بھی کمپنی سے نہ کریں کیونکہ سعودی حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی کو معاہدہ کی اجازت دی گئی ہے ۔با وثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سعودی حکومت نے دنیا بھر کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے منتخبہ معززین کو مہمان عازم حج کی حیثیت سے مدعو کرنے کے سلسلہ میں غور کرنا شروع کردیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ ماہ رمضان المبارک کے اختتام کے بعد حج بیت اللہ کے سلسلہ میں واضح احکام جاری کردیئے جائیں گے تاکہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں پھیلی بے چینی کو دور کیا جاسکے۔ سعودی حکام کا کہناہے کہ حج 2020 کے انعقاد کے سلسلہ میں سماجی فاصلہ کے علاوہ یگر امورکا خصوصی خیال رکھا جائے گا اور اس اہم عبادت میں رکاوٹ پیدا نہیں کی جائے گی۔ حج و عمرہ خدمات انجام دینے والوں کا کہناہے کہ موجودہ حالات میں سعودی حکام کی جانب سے حج بیت اللہ کے لئے عام اجازت دیئے جانے کا سوال ہی نہیں ہوتا کیونکہ ان ہنگامی حالات میں سعودی عرب کی جانب سے دنیا بھر کے مسلمانو ںکی مہمان نوازی کا خطرہ مول نہیں لیا جائے گا ۔عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کئے جانے والے رہنمایانہ خطوط کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ دنیا بھر کے تمام ممالک سے بین الاقوامی پروازوں کے آغاز کے سلسلہ میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔
اور کئی ممالک کی جانب سے بات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے کہ ان کے ممالک میں بین الاقوامی پروازوں کو شروع کیا جائے ان حالات میں عازمین حج کی روانگی اور واپسی بھی ایک بڑا مسئلہ بن جائے گی اسی لئے سعودی حکام جلد فیصلہ کریں گے۔