18 جولائی کو پہلے قافلہ کی روانگی، ریاستی وزراء کے ایشور، محمود علی اور دوسروں کی شرکت
حیدرآباد۔8 ۔ جولائی (سیاست نیوز) حج 2019 ء کے عازمین حج کو حج کیمپ اور حج ٹرمنل میں بہتر سہولتوں کی فراہمی کے لئے متعلقہ محکمہ جات کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ تلنگانہ حج کمیٹی کے کیمپ کا 18 جولائی سے آغاز ہوگا جبکہ تلنگانہ کے عازمین حج کی روانگی 26 جولائی سے شروع ہوگی۔ نامپلی حج ہاؤز میں آج 21 مختلف محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور اور وزیر داخلہ محمد محمود علی نے عہدیداروں کو مختلف انتظامات کے سلسلہ میں ہدایات دیتے ہوئے واضح کردیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ عازمین حج کی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں اور انتظامات کے سلسلہ میں فنڈس کی کوئی کمی نہیں رہے گی۔ گزشتہ کئی برسوں سے تلنگانہ کا حج کیمپ ملک بھر میں نمبر ون ثابت ہوا ہے۔ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خاں ، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم آئی پی ایس، صدرنشین حج کمیٹی مسیح اللہ خاں ، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم ، رکن قانون ساز کونسل فاروق حسین ، اگزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی بی شفیع اللہ آئی ایف ایس کے علاوہ اسسٹنٹ اگزیکیٹیو آفیسر عرفان شریف اور حج کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی ۔ گزشتہ برسوں کی طرح ہر محکمہ کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے ہوئے وزراء نے کہا کہ حج کیمپ میں کوئی کمی یا خامی نہیں ہونی چاہئے ۔ کیمپ کے آغاز سے قبل اجلاس کے انعقاد کا مقصد گزشتہ کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں درست کرنا ہے۔ 18 جولائی کو عازمین حج کا پہلا قافلہ راونہ ہوگا جس میں کرناٹک اور مہاراشٹرا کے عازمین حج شامل رہیں گے ۔ یہ قافلہ صبح 7.20 بجے حیدرآباد سے روانہ ہوگا اور مقامی وقت کے مطابق 10.45 بجے مدینہ منورہ پہنچے گا۔ پہلے قافلہ کی روانگی کی ایک ہفتہ بعد دوسرے قافلوں کی روانگی کا آغاز ہوگا اور 26 جولائی تا 4 اگست 23 قافلے روانہ ہوں گے۔ جاریہ سال حیدرآباد امبارگیشن پوائنٹ کے لئے ایر انڈیا کی خدمات الاٹ کی گئیں۔ اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ایشور نے کہا کہ انہیں پہلی مرتبہ عازمین حج کی خدمت کا موقع مل رہا ہے ، جس کے لئے وہ خود کو خوش نصیب تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیمپ کے دوران کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ برقی کی بلا وقفہ سربراہی کو یقینی بنانے کیلئے حج ہاؤز میں عہدیدار مستقل طور پر متعین رہیں گے۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر نے ہر سال کی طرح مثالی انتظامات کی ہدایت دی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 18 جولائی کے پہلے قافلہ کے عازمین کی حج ہاؤز سے روانگی عمل میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ طیاروں کے اوقات میں زیادہ فرق نہیں ہے جس کے سبب ایر انڈیا کو زیادہ چوکس رہنا پڑے گا ۔ ضعیف عازمین کے لئے کھانے کا انتظام کا بھی مشورہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے حجاج کی واپسی کے موقع پر سامان کی منتقلی کیلئے جی ایم آر سے کنویر بیلٹ لگانے کی خواہش کی جارہی ہے۔ انہوں نے جی ایم آر حکام سے کہا کہ جاریہ سال سے یہ سہولت فراہم کرے تاکہ حجاج کو سامان کی منتقلی میں سہولت ہو۔ آر ٹی سی کی ایر کنڈیشنڈ بسوں کے ذریعہ عازمین کو حج ہاؤز سے ایرپورٹ منتقل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ انکم ریٹرن داخل کرنے کی شرط صرف حجاج کرام تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ سارے ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سے زائد مرتبہ عمرہ کرنے والے عازمین پر ایڈیشنل چارجس کی برخواستگی کے لئے سعودی حکومت سے نمائندگی کی جائے گی۔ پاکستان کے عازمین عمرہ کو زائد چارجس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ۔
