حجاب مسئلہ پر القاعدہ سربراہ کے ویڈیو سے نیا تنازعہ

,

   

وزیر داخلہ کو سازش کا شبہ ، مسکان خان کے والد نے لاتعلقی کا اظہار کیا

حیدرآباد۔7 ۔ اپریل (سیاست نیوز) کرناٹک میں حجاب تنازعہ پر القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے تازہ ترین ویڈیو نے کرناٹک میں ایک تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ ویڈیو میں مسلم لڑکی مسکان خاں کی ستائش کی گئی جس نے حجاب کے ساتھ کالج میں داخلہ سے روکنے کی کوشش پر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تھا۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ اے جنندرا نے ایمن الظواہری کے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سازش کے پس پردہ ’’دکھائی نہ دینے والے ہاتھ‘‘ سرگرم ہیں جو حجاب کے تنازعہ کو ہوا دے رہے ہیں۔ مسکان خاں کے والد محمد حسین نے القاعدہ سربراہ کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ سماج میں پھوٹ ڈالنے کیلئے یہ ویڈیو تیار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نہ ہی ویڈیو سے واقف ہوں اور نہ ہی میں نے کبھی الظواہری کو دیکھا ہے۔ میڈیا میں ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہی میں نے مشاہدہ کیا۔ مسکان کے والد نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بیرونی شخص ہمارے بارے میں گفتگو کرے۔ یہ دراصل سماج کو بانٹنے کی منظم سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کو کسی غیر مطلوب توجہ کی ضرورت نہیں ہے۔ مسکان کے والد کا کہنا ہے کہ ویڈیو ہمارے لئے درد سر بن چکا ہے ۔ ہم یہاں اور کرناٹک کے ضلع مانڈیا میں باہم اتحاد کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ دہشت گرد تنظیم کی جانب سے ان کی بیٹی کے تعلق سے بات کرنے سے الجھن پیدا ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ میں مسکان کو کھسیٹنا درست نہیں ہے۔ حسین نے کہا کہ مسکان کو صرف تعلیم میں دلچسپی ہے اور وہ اس تنازعہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ ایجنسیوں کو تحقیق کرنے دیا جائے ، ہمیں کوئی گھبراہٹ نہیں ہے۔ قبل ازیں کرناٹک کے وزیر داخلہ نے ایمن الظواہری کے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو پیام ثابت کرتا ہے کہ اس تنازعہ کے پیچھے نہ دکھائی دینے والے ہاتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس کے عہدیدار نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارا شروع سے یہی کہنا ہے کہ حجاب تنازعہ کے پس پردہ بعض طاقتیں ہیں۔ ر