چینائی میں جنوبی ریاستوں کے قائدین کا اجلاس، اسٹالن‘ وجین‘ریونت ریڈی اور دیگر کا خطاب
چینائی : حلقوں کی حد بندی پر اپوزیشن قائدین کا چینائی میں آج اجلاس ایک قرارداد پر اختتام پذیر ہوا جس میں حد بندی کے عمل میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا گیا اور اس مشق کو مزید 25 سال کیلئے منجمد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ حد بندی کے خلاف اتحاد کے مظاہرے میں، چھ ریاستوں کے اپوزیشن لیڈروں نے ہفتہ کو چینائی میں چیف منسٹر ٹاملناڈو و ڈی ایم کے کے صدر ایم کے اسٹالن کی میزبانی میں منصفانہ حد بندی سے متعلق پہلی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کے اجلاس میں شرکت کی جس میں انتباہ دیا گیا کہ آبادی کی بنیاد پر پارلیمانی نشستوں کی مجوزہ دوبارہ تقسیم جنوبی اور دیگر ترقی پذیر ریاستوں کو غیر مستحکم بنا سکتی ہے۔اسٹالن نے حد بندی کی بڑھتی ہوئی مشق کو ہندوستانی جمہوریت کا امتحان قرار دیا اور سیاسی پسماندگی کے خلاف اجتماعی مزاحمت پر زور دیا۔ اجلاس میںٹاملناڈو، کیرالا، تلنگانہ، کرناٹک، اوڈیشہ اور پنجاب کے چیف منسٹرسٰ، ایک ڈپٹی چیف منسٹر اور سینئر قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میںحد بندی کے عمل میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا گیا اور مشق کو مزید 25 سال کیلئے منجمد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ اجلاس ڈی ایم کے حکومت کی میزبانی میں اپوزیشن اتحاد کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس تھا جس میں ٹاملناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن، کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے شرکت کی۔اسٹالن نے کہا کہ وہ حدبندی کے خلاف نہیں بلکہ منصفانہ حدبندی کے حامی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جنوبی ریاستوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے مسلسل کارروائی ضروری ہے۔ انہوں نے منصفانہ حدبندی کے لیے مشترکہ کارروائی کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی اور قانونی چارہ جوئی پر بھی غور کا اشارہ دیا۔کیرالا کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے کہا کہ بی جے پی حکومت سیاسی مفادات کے تحت حدبندی کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 2026 میں مردم شماری کے بعد حدبندی ہوتی ہے تو شمالی ریاستوں کی نشستوں میں اضافہ ہوگاجبکہ جنوبی ریاستوں کی سیٹیں کم ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم جمہوری اصولوں کے خلاف ہے اور بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے اجلاس سے خطاب کیا ۔ کیرالا کے چیف منسٹروجین نے کہا کہ حدبندی سے جنوبی ریاستوں کے سیاسی اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس شمال میں زیادہ اثر و رسوخ ہے اس لیے وہ حدبندی کے ذریعے جنوبی ہند میںاپنی طاقت بڑھانا چاہتی ہے۔کمیٹی نے آئندہ اجلاس تلنگانہ کے حیدرآباد میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جس میں قانونی اقدامات اور عوامی بیداری کیلئے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔