حریت کانفرنس مرکز کو مجبور نہیں کرسکتی، دفعہ 370 منسوخ ہوکر رہے گی: رام مادھو

   

جموں، 8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو نے کہا کہ حریت کانفرنس مرکزی حکومت کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتی کہ مذاکرات کب کرنے اور کب نہیں کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے حریت کو ڈیڑھ سال قبل پیش کش کی تھی لیکن حریت اس وقت بات چیت کے لئے تیار نہیں تھی۔ رام مادھو نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی جموں کشمیر میں چند ساتھیوں کو ساتھ لے کر ایک بار پھر حکومت بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو ہٹانے پر بی جے پی کا موقف واضح ہے اور یہ دفعات ہٹ جانے چاہئے ۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں ترکوٹہ نگر میں واقع پارٹی ہیڈ کوارٹر پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ قبل ازیں پارٹی کی ایک تقریب کے دوران راجوری سے کانگریس لیڈر محمد اقبال ملک نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ رام مادھو نے حریت کانفرنس کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا: ‘حریت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ مرکزی حکومت کو ڈکٹیٹ کرے کہ مذاکرات کب کرنے ہیں اور کب نہیں کرنے ہیں، مرکزی حکومت نے حریت کو ڈیڑھ سال قبل پیش کش کی تھی اور ایک مذاکرات کار دنیشور شرما کو وادی کے لوگوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے منتخب کیا گیا تھا لیکن حریت اس وقت بات چیت کے لئے تیار نہیں تھی’۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ آئین کے خلاف ہیں اور ملی ٹنٹوں کی حمایت کرتے ہیں، کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری نے کہا کہ دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے ہٹ جانے چاہئے ۔ ان کا کہنا تھا: ‘دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے بارے میں بی جے پی کا موقف واضح ہے ، ہم چاہتے ہیں دفعہ370 جانا چاہئے اور دفعہ 35 اے بھی ہٹ جانا چاہئے ، یہ کیسے ہوگا اس کے بارے میں سوچا جائے گا’۔