آبپاشی پراجکٹ کے کاموں میںکسانوں کی جانب سے رخنہ اندازی کی کوشش
حسن آباد۔ حلقہ اسمبلی حسن آباد کے مواضعات گوریلی گنڈی پلی اور گٹائی پلی کے مابین تعمیر ہونے والے متوسط آبپاشی پراجکٹ کے باعث بے زمین و بے گھر ہونے والے مذکورہ مواضعات کے کسانوں نے گذشتہ چند دنوں سے آبپاشی پراجکٹ کی تعمیر کی جگہ پر متواتر جمع ہوکر احتجاج کرتے ہوئے تعمیراتی کاموں میں رخنہ اندازی کررہے ہیں جس کے خلاف متعلقہ تعمیراتی کنٹراکٹرس و آبپاشی حکام اور ریونیو ملازمین پولیس کی مدد سے احتجاجیوں کو ہٹاتے ہوئے تعمیراتی کاموں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم کل آر ڈی او حسن آباد جیا چندرا ریڈی کی مداخلت کے دوران متاثرہ کسانوں سے ہوئی لفظی جھڑپ و پولیس کے ذریعہ کسانوں کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کے استعمال کے خلاف متاثرہ کسانوں نے آج مقامی کمیونسٹ قائدین کے ہمراہ دوبارہ احتجاج منظم کیا۔ بھاری تعداد میں پولیس کی آمد کو لیکر آج صبح سے ہی گوریلی ، گٹائی پلی، گنڈی پلی ، مالاپلی و دیگر مواضعات میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ پولیس کی جانب سے متاثرہ کسانوں و کمیونسٹ قائدین کی گرفتاری کے اندیشے کے تحت مقامی عوام میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ دریں اثناء کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ریاستی سکریٹری کامریڈ چاڈا وینکٹ ریڈی نے آج مقامی کسانوں کے احتجاج کے مسئلہ کو ریاستی چیف سکریٹری سومیش کمار سے راست و چیف منسٹر کے سی آر کو بذریعہ مکتوب رجوع کرتے ہوئے آبپاشی پراجکٹ کے باعث متاثرہ کسانوں کو اندرون 15 دن خاطر خواہ معاوضہ ادا کرنے و متبادل اراضیات دینے کا پرزور مطالبہ کیا نیز 15 دنوں تک تعمیراتی کاموں کو مسدود کردینے اور مقامی مواضعات میں موجود کشیدگی و تناؤ اور خوف و ہراس کے ماحول کو دور کرنے کی ریاستی حکومت سے مانگ کی۔ ریاستی چیف سکریٹری سومیش کمار نے آج شام 5 بجے تک وزیر اعلیٰ کے سی آر و محکمہ آبپاشی کے پرنسپل سکریٹری رجت کمار سے ضروری مشاوت کے بعد قطعی اعلان کرنے کا سی پی آئی ریاستی سکریٹری کامریڈ چاڈا وینکٹ ریڈی کو تیقن دیا۔