حسین ساگر بحالی کے اقدامات پر این جی ٹی نے رپورٹ طلب کی

   

حیدر آباد 26 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) نیشنل گرین ٹریبونل سدرن زون نے حکومت تلنگانہ ‘ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ‘ حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی اور تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ وہ حسین ساگر جھیل میں پانی کے معیار کے موجوودہ موقف پر ایک رپورٹ پیش کریں اور یہ بھی واضح کریں کہ وہاں کس طرح کے کام کئے جا رہے ہیں۔ ٹریبونل میں اس مسئلہ پر آئندہ سماعت 22 جنوری 2020 کو مقرر کی گئی ہے ۔ حسین ساگر جھیل کی صفائی اور اس کو بحال کرنے 2015 میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس کی سماعت کے دوران ٹریبونل نے یہ ہدایت جاری کی ۔ اس وقت حکومت نے ایک تاریخی حصہ کو منہدم کردیا تھا اور وہ اس جھیل سے پانی کی نکاسی کا منصوبہ بنا رہی تھی ۔ اہم بات یہ ہے کہ ماہرین کی ایک کمیٹی نے ایسا کرنے سے باز رہنے کی سفارش کی تھی ۔ اس کیس کی سماعت وقفہ وقفہ سے ہو رہی تھی اور کچھ عبوری احکام بھی جاری کئے گئے تھے تاہم این جی ٹی سدرن زون کے ججس کے ریٹائرڈ ہونے اور بنچ کے تقریبا دو سال تک خالی رہنے کی وجہ سے اس کی سماعت تعطل کا شکار ہوگئی ہے ۔ چونکہ جاریہ مہینے این جی ٹی سدرن زون نے کام کرنا شروع کردیا ہے اور نئے ججس کا تقرر عمل میں آچکا ہے ایسے میں حسین ساگر جھیل کے مقدمہ کی سماعت ہوئی ہے اور این جی ٹی نے حکومت تلنگانہ ‘ جی ایچ ایم سی ‘ ایچ ایم ڈی اے اور پولیشن کنٹرول بورڈ کو یہ ہدایت جاری کی ہے ۔