حسین ساگر میں پی او پی مورتیوںکا وسرجن روکنے پر برہمی

   

بھگتوں کا راستہ روکو احتجاج ، پولیس کے خلاف نعرے‘ علاقہ میں ٹریفک جام

حیدرآباد : /6 ستمبر (سیاست نیوز) حسین ساگر (ٹینک ببنڈ) کے قریب آج صبح کی اولین ساعتوں میں اُس وقت ہلکی سی کشیدگی پھیل گئی جب گنیش مورتیوں کے وسرجن پر پابندی کے خلاف ایک گروپ نے اچانک احتجاج شروع کردیا ۔ ہائیکورٹ کے احکامات کے مطابق حسین ساگر جھیل میں پلاسٹر آف پیرس (پی او پی) کے گنیش مورتیوں کے وسرجن پر مکمل طور پر پابندی ہے اور صرف کلے سے بنے ہوئے مورتیوں کو وسرجن کی اجازت ہے ۔ لیکن پی او پی کے گنیش مورتیوں کو لے کر کئی افراد ٹینک بینڈ پہنچ گئے اور وسرجن کیلئے اصرار کررہے تھے لیکن پولیس نے انہیں روک دیا ۔ جس کے نتیجہ میں ایک گروپ نے بڑے پیمانے پر راستہ روکو احتجاج کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے احکامات کو واپس لینے اور پولیس کے خلاف نعرے بازی شروع کردی ۔ اچانک احتجاج کے نتیجہ میں ٹینک بینڈ اور اس کے اطراف و اکناف علاقوں میں ٹریفک جام ہوگئی ۔ سیف آباد پولیس کی ٹیموں نے احتجاج کرنے والے افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ وسرجن کیلئے لائے ہوئے مورتیوں کو پیپلز پلازا کی سمت بھیج دیا ۔ ہائیکورٹ کے احکامات کے خلاف بھاگیہ نگر گنیش اتسو سمیتی نے آج صبح بائیک ریالی کا اعلان کیا تھا اور اس سلسلہ میں آج صبح سمیتی کے سکریٹری ڈاکٹر بھگونت راؤ اپنے حامیوں کے ساتھ ٹینک بینڈ پہنچ گئے اور بائیک ریالی نکالنے کی کوشش کررہے تھے کہ پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا ۔ ڈاکٹر بھگونت راؤ نے حکومتپرسازش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کئی برسوں سے حسین ساگر میں وسرجن کا سلسلہ جاری ہے اور ہائیکورٹ کے احکامات کی آڑ میں ٹی آر ایس حکومت ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچارہی ہے ۔ رہائی کے بعد بھاگیہ نگر گنیش اتسو سمیتی کے سکریٹری بھگونت راؤ اور دیگر ارکان نے سمیتی کے دفتر واقع بہیتی بھون بیگم بازار میں بھوک ہڑتال شروع کردی ۔ واضح رہے کہ جاریہ سال جولائی میں چیف جسٹس تلنگانہ ہائیکورٹ اجل بھویان اور جسٹس ایس نندا کی ایک بنچ نے حسین ساگر میں پلاسٹر آف پیرس کی گنیش مورتیوں کے وسرجن پر پابندی عائد کردی تھی اور ہائیکورٹ کے سابقہ احکامات پر پابندی کرتے ہوئے بی بی پانڈس (عارضی کنٹہ) میں ہی وسرجن کیا جائے ۔ پولیس نے ٹینک بینڈ کے اطراف و اکناف علاقوں میں سکیوریٹی میں اضافہ کردیا ہے ۔