حسین ساگر کی تفریح پر چیف جسٹس ہائی کورٹ کو تلخ تجربہ

   

5 منٹ بھی میں رُک نہیں سکا،موسی ندی کی حالت پر اظہار افسوس
حیدرآباد۔/21 نومبر، ( سیاست نیوز) چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس ستیش چندر شرما نے حسین ساگر میں آلودگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت اگرچہ آلودگی کے خاتمہ کیلئے بلند بانگ دعوے کرتی ہے لیکن میں 5 منٹ بھی حسین ساگر کے پاس ٹھہر نہیں سکا۔ چیف جسٹس نے ریاست میں صحت و صفائی کا ماحول اور آلودگی سے پاک کرنے حکومت کے ساتھ ہر شہری کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے نامپلی گگن وہار میں ریاستی ماحولیاتی اپیلیٹ اتھارٹی کے نئے دفتر کا افتتاح انجام دیا۔ اتھارٹی صدرنشین جسٹس پرکاش بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ اور آلودگی کے خاتمہ کیلئے صرف حکومت پر ذمہ داری عائد کرنے کے بجائے ہر کسی کو اپنا حصہ ادا کرنا چاہیئے اور اسے ہر کوئی اپنی ذمہ داری سمجھے۔ چیف جسٹس نے حسین ساگر سے متعلق اپنا شخصی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد آنے کے بعد انہوں نے سنا کہ حسین ساگر ایک بہترین تفریحی مقام ہے۔ میں نے ڈرائیور سے کہا کہ پہلے حسین ساگر جانا ہے، ڈرائیور اور اپنے پرسنل سکریٹری کے ساتھ میں حسین ساگر پہنچا لیکن وہاں پانچ منٹ بھی ٹھہر نہیں سکا۔ وہاں اس بات کا اندازہ ہوا کہ ماحولیات کو کس طرح نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ ہائی کورٹ کو آتے ہوئے میں نے سامنے کسی نالے کی موجودگی کا اندازہ کیا لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہ نالہ نہیں بلکہ موسی ندی ہے جس پر مجھے حیرت ہوئی۔ ہر کسی سے میری درخواست ہے کہ حیدرآباد کو آلودگی سے بچانے کے اقدامات کریں۔ ماحولیات کو آلودگی سے بچاتے ہوئے ہم آنے والی نسلوں کو بہتر زندگی دے سکتے ہیں۔ر