حضور آباد حلقہ اسمبلی ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی حکمت عملی

   

بیالٹ پیپر کے استعمال کو یقینی بنانے کی کوشش، دلت امیدواروں کو میدان میں اتارنے پر غور

حیدرآباد۔20ستمبر(سیاست نیوز) ریاستی حکومت اورایٹالہ راجندر کے درمیان عزت نفس کا مسئلہ تصور کئے جانے والی حضور آباد حلقہ اسمبلی کی نشست پر کامیابی کے حصول کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے حکمت عملی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ انتخابات میں بیالٹ پیپر کے استعمال کویقینی بنانے کی حکمت عملی تیار کررہی ہے اور اس بات کی کوشش کی جار ہی ہے کہ نظام آباد حلقہ پارلیمان میں جس طرح بھاری تعداد میں امیدوارو ںکو اتارا گیا تھا اسی طرز پر دلت بندھو اسکیم میں ریاست کے تمام دلتوں کا احاطہ کرنے کے لئے دلت امیدوارو ںکو میدان میں اتارنے کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے۔ الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق حضور آباد انتخابات میں الکٹرانک ووٹنگ مشین یا بیالٹ پیپر کے استعمال کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ اسی وقت کیا جائے گا جب امیدواروں کی تعداد واضح ہوجائے گی۔ بتایاجاتا ہے کہ الکٹرانک ووٹنگ مشین پرNOTA کے بشمول 385 امیدواروں کے نشان موجود رکھے جاسکتے ہیں اور اگر اس سے زیادہ امیدوار اپنا پرچۂ نامزدگی داخل کرتے ہیں تو ایسی صورت میں انتخابات کا عمل بیالٹ پیپر پر کیا جاسکتا ہے۔ برسراقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کی حکمت عملی کا باریکی سے مشاہدہ کیا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ اگر ان اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو میدان میں اتارے جانے کی حکمت عملی تیار کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے ان کی حکمت عملی کا مؤثر جواب دینے کی تیاری کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کی جانب سے دلت بندھو اسکیم کو انتخابی حربہ قرار دیتے ہوئے اسے ریاست بھر میں عمل کرنے کا مسلسل مطالبہ کیا جا رہاہے اسی لئے اس بات کا امکان ہے کہ حضور آباد میں دلت امیدوارو ںکو قطار میں کھڑے پرچہ نامزدگی داخل کروائی جاسکتی ہے تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ دلت بندھو اسکیم کے اعلان کو دلتوں نے سیاسی حربہ مان لیا ہے۔ بی جے پی قائدین کی جانب سے حضور آباد حلقہ اسمبلی میں کامیابی کے حصول کے لئے دوباک کے طرز پر مائکرو سطح پر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔کانگریس نے بھی تلنگانہ راشٹرسمیتی کی جانب سے تیار کی جانے والی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ بی جے پی کو شکست سے دوچار کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے کی حکمت عملی پر کام کرنا شروع کردیا ہے کیونکہ کانگریس کا یہ احساس ہے کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان ہونے والے مقابلہ میں کانگریس کو اس کا بھرپور فائدہ ہوگا کیونکہ مرکز میں برسراقتدار بی جے پی اور ریاست میں برسر اقتدار ٹی آر ایس دونوں نے ہی عوام کو مایوس کیا ہوا ہے۔M