کے سی آر کی پارٹی قائدین سے مشاورت، 29 نومبر کے جلسہ کے ذریعہ کارکنوں کے حوصلے بڑھانے کی کوشش
حیدرآباد۔4۔نومبر (سیاست نیوز) حضورآباد ضمنی چناؤ میں پارٹی شکست کے بعد 29 نومبر کا ورنگل وجئے گرجنا ٹی آر ایس قائدین اور ورکرس کیلئے اہمیت کا حامل بن چکا ہے ۔ پارٹی کو امید تھی کہ حضور آباد کی کامیابی کا جشن وجئے گرجنا کے ذریعہ مناتے ہوئے دیگر اسمبلی حلقہ جات میں پارٹی استحکام کی حکمت عملی تیار کی جائے گی لیکن حضور آباد میں ٹی آر ایس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد پارٹی کا یہ پہلا جلسہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی صدر اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تبدیل شدہ سیاسی حالات میں وجئے گرجنا کے ایجنڈہ میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ شکست کے صدمہ سے پارٹی کیڈر کو ابھارنے اور دوبارہ متحرک کرنے کیلئے کے سی آر وجئے گرجنا سے اہم خطاب کریں گے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے ٹی آر ایس کے 20 سال کی تکمیل پر ہونے والے اس جلسہ عام میں سینئر قائدین کی ٹیم تیار کی ہے جو حضور آباد کے نتیجہ کے پس منظر میں کارکنوں کے حوصلے بلند کرنے کا کام انجام دیں گے ۔ شکست کیلئے کانگریس اور بی جے پی کے درپردہ اتحاد کو ذمہ دار قرار دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ کارکنوں اور عوام تک یہ پیام پہنچایا جائے کہ اگر کانگریس درپردہ بی جے پی کی تائید نہ کرتی تو کامیابی ٹی آر ایس کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے پارٹی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ وجئے گرجنا کے عنوان پر از سر نو غور کریں۔ قائدین نے کہا کہ اگر وجئے گرجنا کے بجائے کوئی اور عنوان دیا جائے تو اس سے کارکنوں کے حوصلے پست ہوجائیں گے ۔ لہذا عنوان یہی برقرار رہے گا۔ قائدین نے کہا کہ 2001 ء میں ٹی آر ایس کے قیام کے 20 سال کی تکمیل کے دوران علحدہ ریاست کا حصول اور دو مرتبہ اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے جشن کے طور پر وجئے گرجنا نام رکھا گیا ہے ۔ ابتداء میں 15 نومبر کی تاریخ طئے کی گئی تھی لیکن چیف منسٹر نے 29 نومبر کی تاریخ طئے کی ۔ علحدہ تلنگانہ کیلئے کے سی آر نے 29 نومبر کے دن غیر معینہ بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ اسی دن کی مناسبت سے ورنگل میں جلسہ عام منعقد کیا جارہا ہے۔ جلسہ عام کیلئے 350 ایکر اراضی کی ہنمکنڈہ میں نشاندہی کی گئی۔ ضلع کے حسن پرتی منڈل کے دیوننا پیٹ دیہات میں جلسہ عام منعقد ہوگا۔ 350 ایکر اراضی پر جلسہ کے انتظامات کا آغاز ہوچکا ہے ۔ سابق وزیر کے سری ہری اور ارکان اسمبلی نے جلسہ گاہ اور اطراف کی 900 ایکر اراضی کا انتخاب کیا ہے تاکہ جلسہ عام کے علاوہ پارکنگ اور دیگر سہولتوں کا انتظام کیا جاسکے۔ گورنمنٹ وہپ ونئے بھاسکر اور رکن اسمبلی اے رمیش نے بتایا کہ عہدیداروں کو پارکنگ کے لئے اراضی کی نشاندہی کی گئی۔ جلسہ عام میں 40,000 گاڑیوں کے ذریعہ 15 افراد کی شرکت کو یقینی بنانے کا منصوبہ ہے۔ جلسہ عام میں کئی قراردادیں منظور کی جائیں گی۔ ر