حضور آباد کے دلت خاندانوں میں اسکیم سے متعلق بے چینی

   

اکاؤنٹ سے رقم کے حصول کے لیے سخت شرائط
حیدرآباد۔/20 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) دلت بندھو اسکیم پر حضورآباد میں عمل آوری روکنے سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے بعد استفادہ کنندگان میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ حکومت نے اگرچہ الیکشن کے بعد اسکیم پر عمل آوری کا بھروسہ دلایا ہے لیکن ایسے استفادہ کنندگان جن کے بینک اکاؤنٹ میں 10 لاکھ روپئے کی رقم جمع کردی گئی لیکن انہیں استعمال کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ اسکیم کے طریقہ کار کے مطابق اکاؤنٹ میں رقم جمع ہونے کے باوجود خرچ کیلئے درخواست گذار کو اسکیم کی تفصیلات داخل کرنی ہوگی۔ جس مقصد سے یہ رقم خرچ کی جائے گی اس کی منظوری عہدیدار دیں گے۔ عہدیداروں نے حضور آباد میں تقریباً 17000 دلت خاندانوں کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کردی ہے لیکن انہیں رقم حاصل کرنے کی اجازت اس لئے نہیں دی گئی کیونکہ قواعد کے مطابق یونٹ کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ استفادہ کنندگان کا کہنا ہے کہ حکومت رقم کے خرچ کے سلسلہ میں سخت شرائط پیش کررہی ہے۔ عہدیداروں کو جس یونٹ کے قیام پر رقم کی ضرورت ہے تفصیلات پیش کرتے ہوئے منظوری حاصل کرنا ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ کئی تجاویز کو عہدیداروں نے منظوری کے بغیر زیر التواء رکھا ہے۔ زیادہ تر استفادہ کنندگان ٹیکسی سرویس کے آغاز کیلئے فور وھیلر گاڑی خریدنا چاہتے ہیں۔ کئی درخواست گذاروں کے ایک ہی طرح کے یونٹ پر عہدیداروں نے اعتراض کیا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ امدادی رقم حقیقی معنوں میں دلت خاندانوں کیلئے غربت کے خاتمہ میں معاون ثابت ہو۔ بیشتر افراد ٹریکٹر کی خریدی کے علاوہ پولٹری فارم اور زرعی آلات کی خریدی سے متعلق تجاویز پیش کررہے ہیں۔ حکومت نے امدادی رقم تو جاری کردی لیکن استفادہ کنندگان کیلئے رقم حاصل کرنے کیلئے جو شرائط رکھی گئیں ان کی تکمیل آسان نہیں ہے۔ر