حقائق تسلیم کئے بغیر صحافت کو دھمکانے کی کوشش: جی نرنجن

   

محکمہ پولیس میں بے قاعدگیوں سے حکومت انکار نہیں کرسکتی
حیدرآباد ۔24۔ فروری (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان جی رنجن نے الزام عائد کیا کہ وزیر داخلہ اور پولیس کے اعلیٰ عہدیدار صحافت کو دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک تلگو روزنامہ نے پولیس ڈپارٹمنٹ نے بے قاعدگیوں سے متعلق رپورٹ کی اشاعت کے بعد وزیر داخلہ محمود علی اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے اخبار کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ نرنجن نے کہا کہ حکومت اور پولیس عہدیداروں کا بیان حکومت کی عدم رواداری کو ظاہر کرتا ہے ۔ حکومت حقائق تسلیم کرنے کے بجائے صبر و تحمل کھو رہی ہے۔ چیف منسٹر نے کئی مواقع پر نظم و نسق میں موجود بے قاعدگیوں پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ حال ہی میں نو منتخبہ میئر اور چیرپرسن کے اجلاس میں چیف منسٹر نے بلدیہ کھایا پیا چل دیا کے نظریہ میں تبدیلی کا مشورہ دیا تھا ۔ نرنجن نے کہا کہ دشا قتل کیس کے ملزمین کے انکاونٹر پر سپریم کورٹ اور قومی انسانی حقوق کمیشن نے اعتراض جتایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف عید اور تہواروں گنیش ، بونال جلوسوں کے موقع پر پولیس کے معقول بندوبست کی ہر گوشہ سے ستائش کی جاتی ہے۔ حکومت کو محکمہ پولیس میں موجود کمیوں اور خامیوں کو قبول کرنا چاہئے ۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے سوال کیا کہ کیا وہ اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں کہ پولیس میں سیاسی مداخلت میں اضافہ ہوچکا ہے۔ کیا وزیر داخلہ سیاسی مداخلت کے بغیر عہدیداروں کی پوسٹنگ اور غیر سماجی عناصر کی سرگرمیاں نہ ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں ؟