حلال گوشت کے نام پر حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کو متاثر کرنیکی سازش

   

بونال تہوار کے موقع پر شرانگیزی، حلال کا بائیکاٹ کرنے منادر کے قریب فلیکسی بیانرس

حیدرآباد۔28جولائی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد گنگا جمنی تہذیب کے مرکز کے طور پر اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے اور اس شہر کے خمیر میں اب بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ شہر میں گوشت خور غیر مسلم بھی اگر اپنے تہوار کے موقع پر کوئی جانور ذبح کرواتے ہیں تو اس کے لئے کسی مسلم اہل علم سے اپنے جانور کو ذبح کروایا جاتا ہے لیکن گذشتہ چند ہفتوں سے ’حلال‘ کے معاملہ میں شرانگیزی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ’حلال‘ کا بائیکاٹ کیا جائے۔ چند ہفتہ قبل ایک رکن اسمبلی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا غیر مسلم بالخصوص ہندوؤں سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے تہوار کے موقع پر مسلمانوں سے جانور ذبح نہ کروائیں ۔ رکن اسمبلی کی جانب سے کی گئی اس متنازعہ اپیل کے بعد شہر حیدرآباد میں بونال تہوار کے دوران منادر کے قریب فلیکس بیانر نصب کرتے ہوئے ہندوؤں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ ’حلال ‘ استعمال نہ کریں ۔ ملک کی مختلف ریاستوں بالخصوص اترپردیش میں حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے بے تکے احکامات سے متاثر ہوتے ہوئے شہر حیدرآباد میں بھی اس طرح کے مطالبات کئے جانے لگے ہیں اور نوجوانوں کو ترغیب دیتے ہوئے ان میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جانے لگی ہے۔ بونال تہوار کے دوران منادر کے قریب آویزاں ان فلیکس بیانر جن پر انگریزی میں تحریر ہے Say No To Halal ان بیانرس پر سری کیسری ہنومان یووا سنگٹھن کاروان درج ہے جس کی جانب سے یہ بیانرس آویزاں کئے گئے ہیں۔ حکومت اترپردیش نے سال گذشتہ کے اواخر میں حلال اشیاء پر پابندی عائد کرنے کے احکام جاری کئے تھے اور جن مصنوعات پر حلال درج ہے انہیں سوپر مارکٹس اور بازاروں سے ہٹانے کی ہدایت دیتے ہوئے حلال پر پابندی عائد کی تھی ۔ شہر حیدرآباد میں بھی شرپسند عناصر کی جانب سے ریاست کو اسی راہ پر لیجانے کی کوشش کی جار ہی ہے جو کہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ شہر حیدرآباد میں اکثریتی و اقلیتی طبقہ کے درمیان حلال کو بنیاد بناتے ہوئے منافرت نہیں پھیلائی جاسکتی کیونکہ ہندو طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت بھی شہر حیدرآباد اور تلنگانہ میں حلال گوشت استعمال کرتی ہے۔3