حلقہ اسمبلی خیریت آباد کی ترقی کے لیے متعدد منصوبے

   

کانگریس امیدوارہ شریمتی پی وجیہ ریڈی کی انتخابی مہم ، عوام سے ملاقات
حیدرآباد۔23۔نومبر(سیاست نیوز) ڈی ناگیندر نے رائے دہی سے قبل ہی شکست قبول کرلی ہے اور وہ اب دھمکیوں اور غنڈہ گردی کے بجائے رائے دہندوں کو گمراہ کرنے کے لئے یہ کہنے لگے ہیں کہ یہ ان کا آخری الیکشن ہے۔ کانگریس امیدوارہ محترمہ پی وجیہ ریڈی نے عوام سے ملاقات کے دوران اپنے حریف امیدوار ڈی ناگیندر کے اعلان کو گمراہ کن اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب جبکہ انتخابات کے لئے ایک ہفتہ بھی نہیں رہ گیا ہے تو ڈی ناگیندر عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ گذشتہ ایک ماہ سے وہ حلقہ اسمبلی کے رائے دہندوں اور سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنارہے تھے لیکن اب وہ اپنے موقف میں نرمی لاتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بدل چکے ہیں۔مسز پی وجیہ ریڈی نے کہا کہ حلقہ اسمبلی خیریت آباد کے عوام یہ جان چکے ہیں کہ ان کے موجودہ رکن اسمبلی کی فطرت کیسی ہے اسی لئے وہ اب ان کی کسی بات میں آنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حلقہ اسمبلی خیریت آباد کو وہ مبارکباد پیش کرتی ہیں کہ رائے دہی کے عمل کی تکمیل سے قبل ہی ان کے ایک حریف نے شکست قبول کرلی ہے جبکہ ایک اور حریف کسی مقابلہ میں ہی نہیں ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے کام کی بنیاد پر عوام کے درمیان ہیں اور ان کے خاندان کے طرز کارکردگی سے خیریت آباد کے ہی نہیں بلکہ قدیم حلقہ خیریت آبا دکے عوام جو اب جوبلی ہلز کا حصہ ہیں وہ بھی واقف ہیں۔ انہوں نے حلقہ اسمبلی خیریت آباد کی ترقی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں خیریت آباد کو مثالی حلقہ کے طور پر ترقی دینے کے لئے ان کے پاس موجود منصوبہ میں سب سے پہلے حلقہ میں شامل بستیوں اور محلہ جات کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ حلقہ اسمبلی میں موجود سرکاری دفاتر میں حلقہ کے مسائل کے حل کے لئے خصوصی نمائندگیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حلقہ اسمبلی خیریت آباد کے عوام سے گذشتہ 9 برسوں کے دوران کئے گئے وعدوں میں کسی وعدہ پر بھی عمل آوری نہیں کی گئی اور نہ ہی 15 سال سے حلقہ کی ترقی کے سلسلہ میں کوئی اقدامات کئے گئے ہیں بلکہ حلقہ اسمبلی خیریت آباد میں صفائی اور کچہرے کی نکاسی کے انتظامات کو تک بہتر نہیں بنایا گیا جس کے نتیجہ میں حلقہ کی بستیوں کی حالت انتہائی ابتر ہوچکی ہے اور حلقہ اسمبلی میں ترقیاتی کاموں کو انجام نہ دیئے جانے کے سبب صورتحال تباہ کن ہوچکی ہے۔