تل ابیب: اسرائیلی اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ نے پیر کے روز نیتن یاہو کو یرغمالیوں کی رہائی معاہدے کی صورت میں اپوزیشن نیتن یاہو کی حکومت کو پارلیمنٹ میں حمایت دے کر گرنے سے بچالے گی۔ گویا اسرائیل کے حماس سے ممکنہ معاہدے کے ساتھ ہی اسرائیلی سیاست میں نئی صف بندی شروع ہو سکتی ہے۔اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم نیتن یاہو کویہ یقین دہانی ایک ایسے وقت میں کرائی گئی ہے جب مخلوط حکومت میں شامل انتہا پسند جماعتیں نیتن یاہو کو دھمکا رہی ہیں کہ حماس کے مکمل خاتمے کے بغیر جنگ بندی معاہدہ کیا تو وہ حکومت سے الگ ہو جائیں گی، جس کے نتیجے میں نیتن یاہو کی حکومت کو گرنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔واضح رہے نیتن یاہو نے اسرائیلی حکام کو ثالث ملکوں کے ساتھ مل کر جنگ بندی مذاکرات کیلئے ایک بار پھر اختیار دیا ہے، تاکہ حماس کے ساتھ امکانی ڈیل آگے بڑھے اور پچھلے نو ماہ سے حماس کے عسکری ونگ کی قید میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکے۔ ان کی انتہائی کٹر قسم کی انتہا پسند اتحادی جماعتیں ایسی کسی ڈیل کو اس وقت حماقت قرار دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ وہ ایسی صورت میں حکومت کے گرنے کیلئے اس کا ساتھ چھوڑ جائیں گی۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کے رہنما یائر لیپڈ نے اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کہا’ اس وقت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا معاملہ میز پر زیر بحث ہے۔ اس لیے یہ درست نہیں ہو گا کہ نیتن یاہو کو یرغمالیوں کے معاہدے اور وزیر اعظم کے طور پر اپنے دور کو جاری رکھنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے۔لیپڈ نے اپنے خطاب میں مزید کہا ‘ یاہو کو سودا کرنے کی اجازت دی جائے میں اس وعدے کو پورا کروں گا۔’ لیپڈ نیتن یاہو کے اتحادی شراکت داروں کے معاہدے کرنے کے خلاف حکومت سے استعفیٰ دینے کی دھمکی کا ذکر کر رہے تھے۔انہوں نے کپا ‘ نیتن یاہو کی مخالفت کے پیش نظر میرے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا مگر ہمارے لیے اپم ترین بات یرغمالیوں کو گھروں میں واپس لانا ہے۔’اسرائیلی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ کے مطابق، نیتن یاہو کے اتحاد میں دو انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں جو کسی بھی ممکنہ جنگ بندی کے معاہدے کی سب سے زیادہ مخالف ہیں، ان کی اسرائیلی پارلیمنٹ میں مشترکہ طور پر 13 نشستیں ہیں، جب کہ لیپڈ کی پارٹی کے پاس 24 نشستیں ہیں۔ اس لیے اپوزیشن نے یاہو کی حکومت کو گرنے سے بچانا چاہا تو کم از کم اتنی تعداد میں ارکان می متبادل حمایت درکار ہو گی۔