ہم نے دہشت گردوں کو نکال باہر کردیا ہے، اسٹیووٹکوف کا امریکی حکومت کے اجلاس میں اہم بیان
واشنگٹن ۔ 30 جنوری (ایجنسیز) غزہ پٹی میں جنگ بندی کا معاہدہ دوسرے مرحلہ میں داخل ہونے کے ساتھ ہی، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ حماس تنظیم اس امن منصوبہ کے دائرہ کار کے تحت غیر مسلح ہو جائے گی جو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فلسطینی غزہ پٹی کیلئے تیار کیا ہے۔وٹکوف نے جمعرات کی شام امریکی حکومت کے ایک اجلاس کے دوران کہا کہ ہم نے وہاں سے دہشت گردوں کو نکال باہر کیا ہے اور وہ اب غیر مسلح ہو جائیں گے … وہ ایسا اس لیے کریں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے.. اس لیے ہمیں یہی توقع ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ حماس تنظیم AK-47 رائفلوں سے دستبردار ہوجائے گی، جنہیں کلاشنکوف کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ دوسری جانب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حکومتی اجلاس میں کہا کہ بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی غیر مسلح نہیں ہوں گے.. لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت، اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان جنگ بندی 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوئی تھی۔ اس معاہدہ کے تحت اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ بھی عمل میں لایا گیا تھا۔ڈونالڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں حماس تنظیم کو غیر مسلح کرنے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی دفعات شامل ہیں۔ تاہم، حماس تنظیم نے اب تک ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے اور اسے غزہ کی پٹی سے مکمل اسرائیلی انخلاء سے مشروط کیا ہے، ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ فلسطینی سطح پر زیرِ بحث ہے۔ دوسری جانب حماس تنظیم نے غزہ کا کنٹرول چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سال کے آخر میں ڈونالڈ ٹرمپ کو مطلع کیا تھا کہ حماس تنظیم کے پاس اب بھی غزہ کی پٹی میں تقریباً 60 ہزار کلاشنکوف رائفلیں موجود ہیں۔واضح رہے کہ غزہ کیلئے ڈونالڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کا مقصد اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان جنگ کا مستقل خاتمہ اور دو سالہ جنگ کے دوران تباہ ہونے والی ساحلی غزہ کی پٹی کی دوبارہ تعمیر ہے۔ اس منصوبے کو گذشتہ برس نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت بھی حاصل ہوئی تھی۔