حماس کے قائدین جو قاتلانہ حملوں میں جاں بحق ہوئے

   

لندن : حماس کے دو سینئر ترین رہنماؤں کی ہلاکت کو بعض ماہرین نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ نیتن یاہو کا یہ موقف رہا ہے کہ حماس کی عسکری صلاحیتوں کے مکمل خاتمے تک غزہ میں جنگ جاری رہے گی۔اس آپریشن نے غزہ کی جنگ اور لبنان میں بگڑتے ہوئے تنازعہ سے تشویش میں مبتلا خطے میں وسیع تر کشیدگی کے خدشات کو جنم دیاہے۔ اسرائیل نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ کسی کا، کہیں بھی تعاقب کر سکتا ہے۔مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر قبضے کے خلاف پہلی فلسطینی بغاوت کے دوران 1987 میں حماس کی بنیاد رکھے جانے کے بعد سے اسرائیل نے حماس کے رہنماؤں اور اہم کارکنوں کو قتل کیا ہے یا قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے قیام کے دو سال بعد، حماس نے اپنے پہلے حملے اسرائیلی فوجی اہداف پر کیے، جن میں دو اسرائیلی فوجیوں کا اغوا اور قتل بھی شامل ہے۔یحییٰ ایاش:فلسطینی خودکش بم دھماکوں کی ایک لہر کے پیچھے چھلاوہ سمجھے جانے والے عسکریت پسند ماسٹر مائنڈ یحییٰ آیاش تھے جنہیں انجینئر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ وہ اس وقت کے پی ایل او کے زیر اقتدار غزہ میں 5 جنوری 1996 کو اس وقت لقمہ اجل بنے جب ان کا سیل فون ان کے ہاتھ میں پھٹ گیا۔خالد مشعل:حماس کے سابق رہنما خالد مشعل 1997 میں اس وقت دنیا بھر میں مشہور ہوگئے تھے جب اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس نے اردن میں مقیم فلسطینی عسکریت پسند رہنما خالد مشعل کو 1997 میں زہریلا اسپرے کر کے ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔ شیخ احمد یاسین:اسرائیل نے 22 مارچ 2004 کو غزہ شہر کی ایک مسجد سے نکلتے ہوئے ہیلی کاپٹر کے میزائل حملے میں حماس کے شریک بانی اور روحانی پیشوا شیخ احمد کو ہلاک کر دیا۔عبدالعزیز الرنتیسی:غزہ شہر میں ایک کار پر اسرائیلی ہیلی کاپٹر کے میزائل حملے میں حماس کے رہنما عبدالعزیز الرنتیسی 17 اپریل 2004 کو جاں بحق ہوئے ۔عدنان الغول:حماس کے ماسٹر بمبار عدنان الغول 21 اکتوبر 2004 کو غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ غول حماس کے عسکری ونگ میں دوسرے نمبر پر تھے اور انہیں فادر آف دی قاسم(راکٹ) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ نثار ریان:بڑے پیمانے پر حماس کے سخت گیر سیاسی رہنماؤں میں شمار کیے جانے والے ایک عالم نے اسرائیل کے اندر نئے خودکش بم حملوں کا مطالبہ کیا تھا۔صالح العروری: جنوری کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقہ دحیہ پر اسرائیلی ڈرون حملے میں حماس کے نائب سربراہ صالح العروری ہلاک ہو گئے۔اسماعیل ھنیہ:فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس نے کہا ہے کہ اسماعیل ھنیہ کو چہارشنبہ کی صبح ایران میں قتل کر دیا گیا۔ایران کے نئے صدر کی حلف برداری کی تقریب میں ان کی شرکت کے چند گھنٹے بعد ایران کے پاسداران انقلاب نے ھنیہ کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ محمد ضیف:حماس نے جولائی میں اسرائیلی کارروائی میں محمد ضیف کے بچ نکلنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم اسرائیلی فوج کی جانب سے اْن کی ہلاکت کے دعوے پر حماس کا تاحال کوئی ردِعمل نہیں آیا ہے۔