نیویارک : گیارہ دنوں تک شدید لڑائی کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا عالمی قائدین نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزید پیش رفت کے لیے یہ ایک حقیقی موقع ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے 20 مئی جمعرات کی دیر رات کو غزہ میں جنگ بندی کا اعلان کیا۔ ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے اس جنگ بندی کو، ’’خاموشی کے بدلے خاموشی‘‘ قرار دیا۔ حماس کے ایک رہنما نے بھی اس خبر کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ، ’’دو طرفہ اور ایک ساتھ جنگ بندی‘‘ ہے جس کا نفاذ جمعہ کے روز مقامی وقت کے مطابق رات کے دو بجے سے شروع ہو گیا۔جمعرات کی شب جس وقت اس جنگ بندی پر بات چیت اور اس کے اعلان کے تذکرے شروع ہوئے اس وقت بھی اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملہ کیا جس کے جواب میں حماس نے بھی ایک راکٹ فائر کیا۔ تاہم دو بجے کے بعد سے کسی تازہ حملے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع بینی گنٹز نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ حماس کے خلاف حملوں سے غیر معمولی عسکری فوائد حاصل ہوئے ہیں۔حماس نے اس جنگ بندی کو’’فلسطینی عوام کی فتح‘‘ قرار دیا اور کہا کہ جو مکانات بھی اس لڑائی میں تباہ ہوئے ہیں انہیں دوبارہ تعمیر کیا جا ئے گا۔
اس جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہی غزہ میں لوگ کافی خوش نظر آئے جہاں جنگ کے بجائے اچانک جشن کا ماحول ہو گیا۔ بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور خوشی سے نعرے بازی کرتے دکھائی دیے۔غزہ پر گزشتہ گیارہ دن کی اسرائیلی بمباری میں 232 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جس میں 65 بچے اور تین درجن سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کے دو فوجیوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ 15 سو سے زیادہ فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ متعدد اسکول، اسپتال اور دیگر سینکڑوں رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔
