حملوں نے اسرائیلی دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے: حماس

   

غزہ : 5 اکٹوبر ( ایجنسیز ) فلسطین تحریک مزاحمت ‘حماس’ نے کہا ہے کہ شہریوں کے خلاف جارحیت میں کمی کے دعوے کے باوجود اسرائیل نے محصور غزہ میں فضائی حملے کر کے، عورتوں اور بچوں سمیت، مزید 70 فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔حماس نے ہفتہ کے روزجاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ”مستقل جاری یہ خونریز شدت پسندی جنگی مجرم نیتن یاہو کی حکومت کے، نہتے شہریوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کم کرنے کے، دعووں کو بے نقاب کرتی ہے “۔حماس نے عالمی برادری اور عرب اور اسلامی ممالک سے اپیل کی ہیکہ وہ فلسطینیوں کے تحفظ، امداد کی فراہمی اور غزہ میں دو سالہ “نسل کشی” اور بھوک کے خاتمہ کیلئے دباؤ میں اضافے کیلئے اپنی قانونی و انسانی ذمہ داریاں پوری کریں۔اسرائیلی فوج نے 93 فضائی حملے کیے جن میں 70 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے 47 کو صرف غزہ شہر میں قتل کیا گیا ہے۔یہ حملے، امریکی صدر ٹرمپ کے جمعہ کے روز اسرائیل سے “فوری طور غزہ پر بمباری بند کرنے”کا ،مطالبہ کرنے کے بعد کئے گئے ہیں۔ حماس کے، جنگ بندی منصوبے کے تحت، اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ تحریک “پائیدار امن کے لیے تیار ہے۔”مصر نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ پیر کو اسرائیل اور حماس کے وفود کی میزبانی کرے گا تاکہ ٹرمپ منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے قیدیوں کے تبادلے کی تفصیلات پر بات چیت کی جا سکے۔ٹرمپ نے 29 ستمبر کو اپنے 20 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا جس میں اسرائیل کی منظوری کے 72 گھنٹوں کے اندر اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، جنگ بندی اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔