l ایک براؤن فیلڈ ایرپورٹ وہ ہوتا ہے جہاں اس زمین پر ایرپورٹ کی تعمیر کی جاتی ہے جو کبھی آپریشنل ہوا کرتی تھی، لیکن اب بیکار حالت میں ہے۔
ورنگل، عادل آباد، بسنت نگر، پداپلی ڈسٹرکٹ
l ایک گرین فیلڈ ایرپورٹ ایک نیا ایرپورٹ ہوتا ہے جہاں منصوبہ سے عمل درآمد تک تمام سرگرمیاں اسکراچ سے انجام دی جاتی ہیں۔
بھدرادری، کتہ گوڑم، جاکرن پلی نظام آباد میں، گڈی بنڈہ ولیج محبوب نگر میں۔
حیدرآباد 27 ڈسمبر (سیاست نیوز) فضائی رابطہ کو بہتر بنانے کی کوشش میں حکومت تلنگانہ نے ریاست میں چھ ایرپورٹس ۔ تین گرین فیلڈ اور تین براؤن فیلڈ کو فروغ دینے کے لئے ایرپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا (اے اے آئی) کی مدد طلب کی ہے۔ ایک تفصیلی پراجکٹ رپورٹ دینے کے لئے۔ ریاستی حکومت ورنگل سے تقریباً 10 کیلو میٹر پر منور، کتہ گوڑم اور عادل آباد ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرس پر ایرپورٹس بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ مزید تین ایرپورٹس پداپلی ڈسٹرکٹ میں بسنت نگر، نظام آباد میں جاکرن پلی اور محبوب نگر میں گڈی بنڈہ میں تعمیر کرنے کی تجویز ہے۔ انڈسٹریز ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ ’’ابتدائی اسٹڈیز سے معلوم ہوا کہ ورنگل، عادل آباد اور کتہ گوڑم میں مجوزہ تین ایرپورٹس قابل عمل اور معقول ہیں۔ مزید تین کا ریاست میں بہتر ایر کنیکٹویٹی کے لئے اضافہ کیا گیا ہے‘‘۔ ایرپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا سے پوچھا گیا ہے کہ وہ یہ بتائے کہ آیا ایرپورٹس کو عوامی خانگی شراکت (پی پی پی) کے تحت شروع کیا جانا چاہئے یا ریاستی حکومت یا کسی ایجنسی کی جانب سے ٹنڈرس جاری کرتے ہوئے فروغ دیا جانا چاہئے۔ سرکاری ذرائع نے کہاکہ مرکزی وزارت دفاع عادل آباد ایرپورٹ کو فروغ دینے کے لئے سنجیدہ ہے جہاں تقریباً 350 ایکر اراضی دستیاب ہے اور مزید 600 ایکر اراضی درکار ہوگی۔ حکومت کے ذرائع نے کہاکہ ’’چونکہ عادل آباد ملک میں مرکزی مقام پر واقع ہے اس لئے وزارت دفاع نے کہاکہ وہ اس کا استعمال کریں گے اور سیولئین فلائٹ آپریٹرس کو بھی اجازت دیں گے تاہم ریاستی حکومت اسے وزارت دفاع کو دینے کے لئے آمادہ نہیں ہے کیوں کہ وہ آپریشنس پر پابندی عائد کرسکتے ہیں۔ اے اے آئی ورنگل ایرپورٹ کو ڈیولپ کرنے میں دلچسپی دکھائی ہے۔ 429 ایکر اراضی دستیاب ہے جبکہ اے اے آئی نے کہاکہ ایک نئے ایرپورٹ کے لئے مزید 400 ایکر اراضی درکار ہوگی۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جی ایم آر کے ساتھ کئے گئے معاہدہ کے مطابق ریاستی حکومت 150 کیلو میٹر کے نصف قطر کے اندر یعنی ورنگل میں ایک اور ایرپورٹ نہیں بناسکتی ہے۔ ورنگل میں ایرپورٹ بنانے کے لئے ’نو آبجیکشن‘ دینے کے لئے ریاستی حکومت کی درخواستوں کے باوجود، جی ایم آر گروپ، جس نے شمس آباد میں راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ کی تعمیر کی ہے اور اسے چلاتا ہے، 150 کیلو میٹر نصف قطر کے اندر کسی ایرپورٹ کی اجازت دینے میں تذبذب کا شکار ہے۔ تاہم حکومت ورنگل ایرپورٹ کے لئے بہت زیادہ ترجیح دے رہی ہے کیوں کہ اس ضلع میں ایک میگا ٹکسٹائیل پارک قائم کیا گیا ہے۔ 150 کیلو میٹر کی رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے اے اے آئی نے شمس آباد سے تقریباً 157 کیلو میٹر کی ایک ایر اسٹرپ کی نشاندہی کی ہے اور وہاں جی ایم آر حیدرآباد ایرپورٹ لمیٹیڈ سے این او سی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ڈائرکٹر اوئیشن، انفراسٹرکچر اینڈ انوسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ وی این بھرت ریڈی نے کہاکہ حکومت کا منصوبہ براؤن اور گرین فیلڈ دونوں ایرپورٹس کو فروغ دینے کا ہے۔