ممبئی : ریاست میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے ۔ شیوسینا پارٹی کے ترجمان ڈاکٹر راجو واگھمارے نے کہا کہ حکومت تمام ذاتوں اور مذاہب کے لوگوں کی ترقی کے لیے پُرعزم ہے ۔ ڈاکٹر راجو واگھمارے نے ان لوگوں کو منہ توڑ جواب دیا جنہوں نے ریاستی حکومت کے ذریعہ وقف بورڈ کو دیے گئے فنڈز پر تنقید کی۔ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر واگھمارے نے کہا کہ ہماری شیوسینا ہندو دل کے شہنشاہ بالاصاحب ٹھاکرے اور دھرم ویر آنند دیگھے کے نظریات پر چلنے والی پارٹی ہے ۔ اس شیو سینا میں قابل احترام بالا صاحب نے مہاراشٹر اور ملک کے محب وطن مسلمانوں کو اپنایا تھا۔ یوٹی حکومت کے دور میں صابر بھائی شیخ نام کے ایک مسلم ایم ایل اے وزیر بھی تھے ۔ بالا صاحب نے کبھی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دشمنی پیدا نہیں کی۔ ڈاکٹر راجو واگھمارے نے واضح کیا کہ وہ ہمیشہ محب وطن مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے کر گئے ۔ بالا صاحب نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ملک کے تمام مسلمان بھائی برے ہیں۔ ڈاکٹر واگھمارے نے کہا کہ بالاصاحب نے ہمیشہ اس سوچ کی پیروی کی اور ان کے خیالات کو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے شیوسینا پارٹی کے ذریعہ آگے بڑھا رہے ہیں۔ مہاراشٹر میں تمام ذاتوں اور مذاہب کے لوگ رہتے ہیں اور وزیر اعلیٰ پہلے ہی یہ خیال ظاہر کر چکے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر واگھمارے نے کہا کہ اس کی بنیاد پر وقف بورڈ کے لیے فنڈز کو منظوری دی گئی ہے ۔ اسمبلی میں ووٹنگ لوک سبھا کی طرز پر نہیں بلکہ مقامی سطح کی سیاست اور ترقیاتی کاموں پر ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر واگھمارے نے کہا کہ ووٹر کسی پارٹی کو اس بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں کہ اس نے علاقہ کی کتنی ترقی کی ہے اور اس نے لوگوں کی کتنی مدد کی ہے ۔ لوک سبھا میں اقلیتوں نے ایک مختلف نقطہ نظر کے ساتھ مہاوکاس اگھاڑی کو ووٹ دیا۔ لیکن کئی حلقوں میں اقلیتوں نے کہا کہ وہ مہایوتی کے ساتھ ہیں اور قانون ساز اسمبلی کی ضرور مدد کریں گے۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ اقلیتی برادری مہایوتی کے ساتھ نہیں ہے ۔