آروگیہ شری اسکیم کو شدید خطرہ، سرکاری ملازمین و صحافیوں کا علاج مشکل
حیدرآباد ۔ 5 اگست (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں سرکاری ملازمین، صحیفہ نگاروں اور گورنمنٹ پنشنرس کو طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے ’’آروگیہ شری (ای جی ایچ ایس) اسکیم کو شدید خطرہ لاحق ہے کیونکہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس اسکیم کے تحت کئے گئے مریضوں کے علاج سے متعلق قابل ادا رقومات ادا نہیں کی گئیں جس کے نتیجہ میں کارپوریٹ و خانگی ہاسپٹلس انتظامیوں نے رقومات کی ادائیگی تک علاج نہ کرنے کا تہیہ کرلیا ہے جس کے باعث مریضوں کو طبی سہولت فراہم نہیں ہوسکے گی جس کے پیش نظر سرکاری ملازمین، صحیفہ نگاروں و سرکاری پنشنرس میں سخت تشویش کا اظہار پایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے کارپوریٹ اور خانگی ہاسپٹلس کو زائد از 1500 کروڑ روپیوں کے بقایا جات ہیں اور جاریہ ماہ 10 اگست تک قابل ادا بقایا جات ادا نہ کئے جانے کی صورت میں 11 اگست تک کارپوریٹ ہاسپٹلس نے طبی خدمات روک دینے کا انتباہ دیا ہے اور 15 اگست تک رقومات ادا نہ کرنے کی صورت میں 16 اگست سے آروگیہ شری ٹرسٹ سے مربوط تمام خانگی ہاسپٹلس انتظامیوں کی جانب سے طبی خدمات فراہم نہ کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گذشتہ دن تلنگانہ آروگیہ شری ٹرسٹ سے مربوط ہاسپٹلس انتظامیوں کی تنظیم ’’تنہا‘‘ کے منعقدہ ایک اہم اجلاس میں سرکاری ملازمین، صحیفہ نگاروں وغیرہ کو مکمل طبی خدمات روک دینے کا فیصلہ کیا۔ صدر تنہا تنظیم ڈاکٹر راکیش نے یہ بات بتائی اور کہا کہ اس سلسلہ میں ایک وفد نے آج وزیرصحت مسٹر ای راجندر اور پرنسپل سکریٹری محکمہ صحت و طبابت شریمتی شانتی کماری کے علاوہ سی ای او آروگیہ شری ٹرسٹ سے ملاقات کرکے ایک یادداشت پیش کیا۔ بتایا جاتا ہیکہ حکومت سے کارپوریٹ، سوپر اسپیشالٹی و پرائیویٹ ہاسپٹلس کو قابل ادا 1500 کروڑ روپیوں کے منجملہ 800 کروڑ روپئے تلنگانہ سوپر اسپشالٹی ہاسپٹلس کو باقی ہیں جبکہ آروگیہ شری ٹرسٹ عہدیداروں کے مطابق 1500 کروڑ روپئے کے بقایاجات ہرگز نہیں ہیں بلکہ دونوں تنظیموں ’’ٹی شاہ‘‘ اور ’’تنہا‘‘ کو ملا کر جملہ 800 کروڑ روپئے کے بقایاجات ہی ہیں اور آئندہ ایک دو دن میں 200 کروڑ روپئے جاری کئے جانے کا قوی امکان ہے۔ اور بتایا جاتا ہیکہ حکومت مرحلہ وار اساس پر قابل ادا تمام رقومات جاری کرنے کے اقدامات کرے گی۔
