پٹنہ: بہار اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے کہا کہ اگر حکومت میں قوت ارادی ہو تو بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ سب لوگوں کے مفاد میں کام کیا جا سکتا ہے لیکن نتیش حکومت ایک تھکی ہوئی سرکار ہے جو عوام کے مفاد میں فیصلے نہیں کر پا رہی ہے ۔ تیجسوی یادو نے اتوار کے روز راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ریاستی دفتر کے کرپوری آڈیٹوریم میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بہار حکومت کس طرح کام کر رہی ہے ،یہ نیتی آیوگ کی رپورٹ سے واضح ہے ۔ نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق بہار تعلیم، طب اور زراعت کے شعبوں میں بہت پیچھے ہے ۔ نقل مکانی اور تعلیم کی ابتر حالت کی وجہ سے لوگ بہت پریشان ہیں لیکن اس سمت میں حکومتی سطح پر کوئی کام نہیں ہو رہا ہے ۔اپوزیشن لیڈر نے الزام لگایا کہ بہار میں بدعنوانی، جرائم، غربت اور بے روزگاری سے عام لوگ بے حال ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے وزیر اعلیٰ کچھ کرنے کے بجائے ہمیشہ اپنا پرانا ٹیپ ریکارڈر بجاتے رہتے ہیں اور 2005 سے پہلے کی باتوں کو بار بار دہراتے ہیں۔ تیجسوی یادو نے مطالبہ کیا کہ پیر کے روز اسمبلی میں پیش ہونے والے بجٹ میں ریاست کی تمام خواتین کیلئے 2500روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا جائے اور بڑھاپے ، معذوری اور بیوہ پنشن کی رقم 400 روپے سے بڑھا کر 1500 روپے کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان سے ملاقات اور مذاکرات کی یاترا کے دوران انہوں نے آٹھ ہزار پنچایتی نمائندوں سے براہ راست بات چیت کی اور اضلاع کی خواتین کے خیالات بھی سنے ۔