حکومت نے آئندہ دو سال میں طبی شعبہ پر 10 ہزار کروڑ روپئے خرچ کا منصوبہ بنایا

   

7 میڈیکل و نرسنگ کالجوں کا قیام، ملٹی اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کی تعمیر کیلئے خصوصی حکمت عملی
حیدرآباد۔ حکومت نے ریاست میں آئندہ دو سالہ کے دوران طبی شعبہ پر 10 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ بجٹ (2021-22) میں محکمہ صحت کیلئے مختص بجٹ 6295 کروڑ کے علاوہ یہ فنڈز خرچ کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ حکومت کی جانب سے دو سال کے دوران میڈیکل کالجس کے قیام، ملٹی اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کی تعمیرات، ڈائیگناسٹک مرکز، ضلعی سطح پر کینسر یونٹس کے قیام، بلڈ بنکس مرکز کو عصری تقاضوں سے لیس کرنے، ویمن اینڈ چائلڈ ویلفیر سنٹرس کے قیام پر 10 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ ریاست میں اضلاع سنگاریڈی، جگتیال، کتہ گوڑم ، ونپرتی، ناگر کرنول، منچریال، محبوب آباد میں حکومت نے نئے میڈیکل کالجس کے علاوہ نرسنگ کالجس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک میڈیکل کالج پر 500 کروڑ اور ایک نرسنگ کالج پر 50 کروڑ روپئے خرچ ہونے کا اندازہ ہے ۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے تفصیلی رپورٹ ( ڈی پی آر ) تیار کی ہے۔ 7 میڈیکل کالجس اور نرسنگ کالجس پر 3850 کروڑ روپئے خرچ ہورہے ہیں۔ حکومت نے حیدرآباد کے اطراف سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ کورونا کے بعد گچی باؤلی کے اسپورٹس کامپلکس کو ٹمس ہاسپٹل میں تبدیل کیا گیا۔ ایرہ گڈہ کے چیسٹ ہاسپٹل کو ملٹی اسپیشالیٹی ہاسپٹل میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ورنگل جیل کو منتقل کرکے جیل کی اراضی پر 24 منزلہ سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر 21 جون کو اس کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ہاسپٹل کی تعمیر کیلئے 1750 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ ریاست کے تمام اضلاع ہیڈ کوارٹر ہاسپٹلس میں کینسر یونٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس طرح ایک یونٹ کے قیام پر 1.30 کروڑ روپئے کے مصارف ہیں۔ ریاست میں 23 کینسر یونٹس کے قیام پر 30 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ ویمن اینڈ چائیلڈ ویلفیر سنٹرس کے قیام کیلئے 24 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ تمام اضلاع میں ڈائیگناسٹک سنٹرس قائم کرنے 130 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ سرکاری ہاسپٹلس میں موجود بلڈ بینکس کو عصری تقاضوں سے لیس کرنے 75 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ متحدہ ضلع کھمم کے مدھیرا اور ستو پلی میں 100 بیڈس پر مشتمل دو ہاسپٹلس تعمیر کئے جارہے ہیں جس پر 50 تا 60 کروڑ کے مصارف ہیں۔ فی الحال ریاست میں 49 ڈائیلاسیس مراکز ہیں مزید ڈائیلاسیس سنٹرس قائم کرنے کا حکومت نے منصوبہ بنایا ہے۔