حکومت نے آئی ٹی کمپنیوں کو ورک فرم ہوم کلچر کو ختم کرنے کی ہدایت دی

   

چھوٹی اور متوسط کمپنیوں میں 75 تا 100 فیصدی حاضری ، بڑی کمپنیوں میں حاضری کا تناسب 10 فیصد
حیدرآباد ۔ 16 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ حکومت نے پھر ایک مرتبہ آئی ٹی کمپنیوں کو مشورہ دیا کہ ورک فرم ہوم کے نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے ملازمین کی دفاتر میں فزیکل حاضری کو یقینی بنائے ۔ کورونا بحران کے پیش نظر آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے گذشتہ سال اپریل سے اپنے ملازمین سے ورک فرم ہوم سے کام لیا جارہا ہے ۔ گوگل ، آمیزان ، مائیکرو سافٹ اور ڈیلائیٹ کے علاوہ دوسری مشہور کمپنیوں کی جانب سے ورک فرم ہوم نظام کو آئندہ سال تک توسیع دی ہے ۔ ٹی سی ایس ، ویپرو ، انفوسیس جیسی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو دفاتر پہونچکر کام کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ شہر حیدرآباد میں 6 لاکھ سے زائد آئی ٹی ملازمین ہیں ان میں 80 فیصد ملازمین بڑی اور شہرت یافتہ کمپنیوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ گھر سے کام کرنے کے رجحان کو ختم کرنے کی حکومت نے ابھی تک کئی مرتبہ آئی ٹی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے ۔ ریاست میں کورونا کا اثر بڑی حد تک ختم ہوگیا ہے ۔ آئی ٹی شعبہ پر انحصار کرنے والے کیابس ، کینٹین اور دوسرے اس سے متصل شعبوں پر ورک فرم ہوم کا کافی گہرا اثر پڑرہا ہے ۔ محکمہ آئی ٹی کی جانب سے کئی مرتبہ آئی ٹی کمپنیوں کے ذمہ داروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے انہیں اپنے اپنے ملازمین کو دفاتر طلب کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ چند کمپنیوں کے ذمہ داروں نے دیوالی تہواروں کے بعد مرحلہ واری اساس پر ملازمین کو دفاتر طلب کرنے تیقن دیا تھا ۔ چھوٹی اور متوسط اسٹارٹپس کمپنیوں میں 75 تا 100 ملازمین فی الحال دفاتر کو پہونچ رہے ہیں جب کہ بڑی اور مشہور کمپنیوں میں صرف 10 فیصد ملازمین دفاتر کو پہونچ رہے ہیں ۔ محکمہ آئی ٹی کی جانب سے امید کی جارہی ہے کہ آئندہ سال جنوری سے بڑی کمپنیوں میں ملازمین کا حاضری تناسب 50 فیصد تک پہونچ جائے گا ۔۔ ن