حکومت کا خزانہ خالی ، بلس کی ادائیگی کے لیے رقم نہیں

   

ایچ ایم ڈی اے اور جی ایچ ایم سی کے کاموں کی تکمیل میں بھی رکاوٹ ، ٹھیکہ دار پریشان حال
حیدرآباد۔15نومبر(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کے محکمہ جات کے پاس ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کے بعد جاری کئے جانے والے بلوں کی اجرائی کیلئے پیسہ نہیں ہے۔ حکومت تلنگانہ کے مختلف محکمہ جات بالخصوص وہ محکمہ جات جو ترقیاتی کاموں کی انجام دہی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ان محکمہ جات کے پراجکٹس کو انجام دینے والے ٹھیکہ داروں کو ادائیگی کے لئے حکومت کے پاس بجٹ نہیں ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں جو کام انجام دیئے جارہے ہیں ان کی تکمیل کے باوجود بھی ان کے بل جاری کرنے کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جو کہ ٹھیکہ داروں کے لئے تکلیف کا سبب بنے ہوئے ہیں اور نئے پراجکٹس کے آغاز میں محکمہ جات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں کچہرے کی نکاسی ‘ سڑکوں کی مرمت جیسے معمولی کاموں کے بل بھی جاری نہ کئے جانے کی شکایت عام ہوچکی ہے جبکہ دیگر منصوبوں پر جو کام کیا جا رہاہے ان کی تکمیل میں تاخیر ہونے لگی ہے کیونکہ بلوں کی عدم اجرائی کے سبب ٹھیکہ دار کاموں کی رفتار کو تیز کرنے سے قاصر ہے۔ملک کی بیشتر ریاستوں میں معاشی بحران کی صورتحال پائی جاتی ہے اور تلنگانہ بھی اس صورتحال کا شکار ہوتا جا رہاہے جاریہ سال کے اوائل میں تلنگانہ میں جی ایس ٹی کی وصولی میں بہتری کے سبب ریاست کی آمدنی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن بتدریج ریاست کی معیشت بھی بحران کا شکار ہوتی چلی گئی ہے اور اب جو صورتحال ہے اس سے نمٹنے کیلئے سرکاری ادارو ںکی جانب سے ادائیگیوں پر روک لگائی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ نئے ترقیاتی منصوبوں کے اعلان سے قبل مناسب حکمت عملی اور منصوبہ بندی کو یقینی بنایا جائے۔محکمہ فینانس کی جانب سے ریاست کے بیشتر تمام محکمہ جات کو بجٹ کی اجرائی میں احتیاط سے کام لیا جانے لگا ہے کیونکہ ریاست کی معاشی حالت میں بہتری پیدا ہونے کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے ہیں اور نہ ہی حکومت کی جانب سے معاشی پالیسی میں ترمیم کے سلسلہ میں کوئی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ریاستی حکومت کے محکمہ جات بلدی نظم و نسق‘ عمارات و شوارع کے علاوہ دیگر محکمہ جات میں جو کام مکمل کئے جا چکے ہیں ان کاموں کے بل جو منظور ہوچکے ہیں ان کی ادئیگی کے سلسلہ میں ہونے والی دشواریوں سے نمٹنے کیلئے محکمہ جات کو اپنے طور پر اقدامات کی ہدایت دی جا رہی ہے جبکہ محکمہ جاتی عہدیداروں کا کہناہے کہ ان کے ذرائع آمدنی اتنے نہیں ہیں کہ وہ ان ترقیاتی کاموں کو مکمل کرنے والے ٹھیکہ داروں کو فوری بل ادا کرسکیں اسی لئے وہ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ نئے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے سے قبل حکمت عملی تیار کرتے ہوئے پرانے بلوں کی ادائیگی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں۔محکمہ فینانس کی جانب سے دی جانے والی اطلاعات کے مطابق ریاست میں ماہ ستمبر کے اوائل سے ہی جی ایس ٹی کے ذریعہ ہونے والی آمدنی میں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے اور جو نشانہ مقرر کیا جا رہا ہے اسے پورا کرنے میں دشواریاں پیدا ہونے لگی ہیں۔