وزیراعظم مودی کو صرف چند دوستوں کی فکر۔ راہول گاندھی کا پنجاب میں ریالی سے خطاب
چندی گڑھ :راہول گاندھی نے آج اپنے پنجاب کے دورے کے دوسرے دن سنگرور میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 6 برسوں میں مودی حکومت صرف کسانوں اور غریبوں پر ہی حملہ کر رہی ہے اور اپنے امیر دوستوں کیلئے راستے ہموار کر رہی ہے۔کانگریس لیڈر راہول گاندھی پنجاب اور ہریانہ کے تین روزہ دورہ پر ہیں ، کل اُنھوں نے زرعی قوانین کے خلاف ٹریکٹر ریلیاں کی ۔ اسی سلسلہ میں راہول گاندھی نے پیر کے روز سنگرور میں ریلی کو خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ مودی حکومت کو غریبوں سے کوئی سروکار نہیں ہے، اس کی ہر پالیسی صرف دو چار دوستوں کے لیے بنائی جاتی ہے۔ پہلے نوٹ بندی کر دی، پھر جی ایس ٹی نافذ کر دیا۔ نوٹ بندی سے پورا ملک سڑکوں پر آ گیا۔ انھوں نے نئے زرعی قوانین کو لے کر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ابھی کسان منڈی میں جا کر بات کر سکتا ہے، لیکن ان نئے قوانین کے بعد کسان کے پاس وہ راستہ ہی نہیں بچے گا۔ راہول نے کہا کہ منڈی سسٹم میں خامیاں ہیں، لیکن اسے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ کسانوں کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے، لیکن مودی جی وہ نہیں کر رہے ہیں۔ وہ اس پورے سسٹم کو ختم کر رہے ہیں۔ جیسے نوٹ بندی سے غریبوں کو چوٹ پہنچی، ویسے ہی ان قوانین سے کسانوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ مودی حکومت کو لگا تھا کہ کورونا کی وجہ سے کسان مخالفت نہیں کرے گا، لیکن کسان اس قانون کے خلاف سڑکوں پر اترے گا اور کانگریس پارٹی کسانوں کے ساتھ رہے گی۔جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کا تذکرہ کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت کے جی ایس ٹی سے صرف امیروں کا فائدہ ہوا، چھوٹا دکاندار اسے آج تک نہیں سمجھ پایا ہے۔ کسانوں کے تعلق سے مودی حکومت نے کچھ نہیں کیا، کسانوں کا کوئی قرض معاف نہیں ہوا، لیکن مودی حکومت نے عام لوگوں کے پیسوں سے اڈانی ۔ امبانی کا قرض معاف کر دیا۔کانگریس کے سابق صدر نے کہا کہ کورونا بحران آیا تو ہم نے کہا کہ غریبوں کو پیسہ دیجیے، لیکن حکومت نے نہیں سنا۔ لیکن امیر لوگوں کا قرض معاف کر دیا۔ روزگار صرف اڈانی ۔امبانی نہیں پیدا کرتے ہیں، بلکہ چھوٹے دکاندار بھی پیدا کرتے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ آنے والے وقت میں ملک میں نوجوانوں کو روزگار مل نہیں پائیں گے، کیونکہ اب وہ سسٹم ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ اب مودی حکومت کھانے کے سسٹم کو ختم کر رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کورونا بحران ابھی برقرار ہے تو پھر یہ زرعی قانون لانے کی ضرورت کیا تھی۔ انھوں نے مودی حکومت سے استفسار کیاکہ آخر زرعی قانون کو لانے میں اتنی جلد بازی کیا تھی؟۔ اس سے قبل اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا کہ قانون بنا ہے۔ پارلیمنٹ میں بل پاس ہو چکا ہے۔ لیکن کون کہتا ہے کہ ان قوانین میں ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ میں راہول گاندھی سے گزارش کرتا ہوں کہ جب وہ لوک سبھا میں اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم بنیں تو ان سیاہ قوانین کو ختم کر دیں۔واضح رہے کہ زرعی قوانین کے خلاف کانگریس کا احتجاجی مظاہرہ ملک گیر سطح پر جاری ہے۔ کانگریس لیڈر راہول گاندھی اس وقت پنجاب میں ’’کھیتی بچاؤ یاترا‘‘ کی قیادت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ہندوستان کے کئی شہروں میں کسان نئے زرعی قوانین کے خلاف سڑک پر اتر کر احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔