ٹیکہ اندازی کورونا سے بچاؤ میں معاون، ریاستی وزراء دیاکر راؤ اور ستیہ وتی راٹھور کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔/8 فروری، ( سیاست نیوز) وزیر پنچایت راج ای دیاکر راؤ اور وزیر بہبودی خواتین و اطفال ستیہ وتی راٹھور نے ٹیلی کانفرنس کے ذریعہ جنگاؤں اور ورنگل کے علاقوں میں کورونا کی صورتحال پر مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں سے بات چیت کی۔ دیاکر راؤ نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے میں حکومت کی کامیاب حکمت عملی کے نتیجہ میں ریاست میں کیسس کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی اور دوسری لہر کی طرح تیسری لہر میں حکومت کی چوکسی کے باعث وائرس کا پھیلاؤ بڑے پیمانے پر ممکن نہیں ہوسکا۔ ریاستی وزراء نے ورنگل کے پالا کرتی اسمبلی حلقہ میں کورونا سے متاثرہ افراد، پولیس عہدیداروں، ریوینو، ہیلت عہدیداروں کے علاوہ مقامی عوامی نمائندوں کے ساتھ ٹیلی کانفرنس کا اہتمام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں کورونا ٹسٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا جس کے نتیجہ میں حقیقی تعداد کا پتہ چلانے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹسٹنگ کیلئے سرکاری دواخانوں اور پرائمری ہیلت سنٹرس میں ضرورت کے مطابق کٹس کا انتظام کیا گیا۔ ہوم آئسولیشن میں رہنے والے افراد کو ادویات پر مبنی کٹس سربراہ کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی علامات پائے جانے پر سرکاری دواخانہ سے رجوع ہوکر فوری علاج کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے تمام پرائمری ہیلت سنٹرس میں علاج کے انتظامات کئے ہیں۔ ٹیکہ اندازی کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے ریاستی وزراء نے ہر شخص کیلئے ویکسین کی دونوں خوراک کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکہ اندازی کے ذریعہ کورونا پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دواخانوں اور پرائمری ہیلت سنٹرس میں آکسیجن سلینڈرس کا انتظام کیا گیا ہے۔ ریاستی وزراء نے کہا کہ تیسری لہر سے موثر انداز میں نمٹنے میں حکومت کامیاب ہوئی ہے۔ ریاستی وزراء نے 11 فروری کو چیف منسٹر کے سی آر کے دورہ جنگاؤں کے انتظامات کا ضلع کلکٹر اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ جائزہ لیا۔ ر