خصوصی مراعاتی موقف کا مقصد ناکام ، جنا سنگھرش سمیتی صدر لکشمن دستی کا بیان
گلبرگہ : حیدر آباد کرناٹک جنا پرا سنگھرش سمیتی نے پیرکے دن ریاست کرناٹک کی سابقہ اور موجودہ حکومتوں پر الزام عائدکرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حکومتوں نے ماضی اور حال دونوں ادوارمیں علاقہ کلیان کرناٹک ( سابقہ نام حیدر آباد کرناٹک ) کی ترقی کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے۔لہٰذا اس علاقہ کی ترقی کو ممکن بنانے اور علاقائی توازن کوبرقرار رکھنے کے لئے اسے علیحدہ ریاست کا درجہ دینا بے حد ضروری ہے۔ سمیتی کے سڈر مسٹر لکشمن دستی نے اپنے صحافتی بیان میں مطالبہ یا ہے کہ اس علاقہ کو فوری طور پر علیحدہ ریاست کا درجہ ملنا چاہئے۔ واضح رہے کہ ریاست کرناٹک میں شامل علاقہ کلیان کرناٹک میںچھ اضلاع گلبرگہ ، بیدر، رائچور، یادگیر ، کوپل اور بلاری شامل ہیں اور ان اضلاع کی معاشی، تعلیمی و صنعتی میدانوں میں پسماندگی کی شکایات برسوںسے کی جارہی ہیں۔ مسٹر لکشمن دستی نے کہا ہے کہ اس علاقہ کی ترقی کے لئے کلیان کرسناٹک علاقائی ترقیاتی بورڈ قائم کیا گیا اور پھر اس کواس علاقہ کی پسماندگی کے خاتمہ کے لئے اسے مختلف مراعات فراہم کرنے کے مقصد سے اسے دستورکی ترمیمی دفعہ 371Jکی پارلیمینٹ میںمنظوری کے ذریعہ خصوصی موقف عطا کیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود علاقہ کلیان کرناٹک ترقی سے محروم ہے۔ علاقہ کو خصوصی مراعاتی موقف عطاکرنے کا مقصد بھی ناکام ہوگیا ہے۔ لیکن علاقہ کلیان کرناٹک کو علیحدہ ریاست کا موقف عطاکیا جاتا ہے تو اس صورت میں اس کی ترقی یقینی طور پر ممکن ہوسکتی ہے۔ مسٹر لکشمن دستی نے کہا کہ کرناٹک کی یکے بعد دیگرے تمام ریاستی حکومتوںکے علاقہ حیدر آباد کرناٹک (موجودہ تبدیل شدہ نام کلیان کرناٹک ) کے ساتھ سوتیلی ماںجیساسلوک کیا ہے۔ اب جبکہ اس علاقہ کو خصوصی مراعاتی موقف عطا کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی تمام علاقائی مفادات اور ترقیات کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ اس طرح اس علاقہ کے لوگ ہمیشہ بری طرح متاثر ہوتے رہے ہیں اور ہمیشہ پسماندگی کا شکار ہوتے آئے ہیں۔ مسٹر دستی نے کہا کہ ریاست کی مختلف حکومتوںبشمول موجودہ ریاستی بی جے پی حکومت نے علاقہ کلیان کرناٹک کو مختلف پروجیکٹوں کے لئے مطلوبہ ترقیاتی فنڈس فراہم کرنے کے معاملہ میں ہمیشہ کوتاہی سے کام لیا ہے۔ اس کے برخلاف ریاست کرناٹک قدیم میسور کا علاقہ ہمیشہ ہی سے سیاست اور علاقائی ترقی کے میدانوںمیں آگے رہا ہے۔ علاقہ کلیان کرناٹک کو سیاسی لحاظ سے بھی زیادہ موثر نمائیندگی نہیں ملتی رہی ہے۔مسٹر لکشمن دستی نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت علاقہ حیدر آباد کرناٹک کی ترقی کے ضمن میں ننجندپا کمیٹی رپورٹ اور دستور ہند کی دفعہ 371J پر عمل آوری میں ناکام رہی ہے۔ انھوںنے کہا اگرچیکہ کلیان کرناٹک ترقیاتی بورڈ کو اس علاقہ کی ترقی کے لئے کروڑوںروپیوں کے فنڈس جاری کئے گئے لیکن ان فنڈس کو صحیح طور پر استعمال نہیںکیا گیا۔ اسی لئے اس علاقہ کی ترقی کے لئے اس کو علیحدہ ریاست کا موقف دینا ضروری ہے۔