حیدرآباد اور نواحی علاقوں میں بلڈرس اور ڈیولپرس کی من مانی

   

بغیر اجازت تعمیرات، فلیٹ مالکین پریشانی کا شکار، بروچر کی بنیاد پر فروختگی

حیدرآباد ۔ 26 نومبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد اور نواحی علاقوں میں بلڈرس اور ڈیولپرس کی من مانیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ صرف پراجکٹ کا بروچر بنا کر بڑے پیمانے پر رقم حاصل کی جارہی ہے۔ تاہم خریداروں کو سالوں انتظار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ مقررہ مدت تک فلیٹ حوالے کرنے کے وعدے سے انحراف کرتے ہوئے شہریوں کو مصیبت کا شکار بنایا جارہا ہے۔ بلڈرس اور ڈیولپرس کی ان من مانیوں پر روک لگانے والی ایجنسیاں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ بروچرس پر پیشکش کی سوغاتیں اور بڑے بڑے آفرس پراجکٹ کے خدوخال کو بتا کر عوام کو اپنے جال میں پھانسا جارہا ہے۔ اکثر علاقوں میں بغیر اجازت کے تعمیرات کو انجام دیتے ہوئے فلائیٹس فروخت کرائے جارہے ہیں۔ 3 منزلہ عمارت کی تعمیر کی اجازت حاصل کرتے ہوئے 5 منزلہ عمارت تعمیر کی جارہی ہے۔ بلڈرس کی جانب سے اس طرح کی من مانی سے فلیٹ خریدراوں کو مستقبل میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تعمیرات کے وقت اپنے طور پر موقع سے فائدہ اٹھانے والی سرکاری ایجنسیاں جیسے ہی فلیٹ مالکین کے حوالے ہوتا ہے اس وقت مختلف اقسام کے مسائل، پیچیدگیاں اور طرح طرح کے قانونی نقائص کو بیان کرتے ہیں جبکہ تعمیرات کے وقت بلڈرس کو چھوڑدیا جاتا ہے۔ شہر حیدرآباد میں تعمیرات کیلئے جی ایچ ایم سی سے اور شہر کے اطراف گریٹر حیدرآباد حدود میں تعمیر کیلئے ایچ ایم ڈی اے سے اجازت لازمی ہوتی ہے۔ شہر و نواحی علاقوں میں جاری بلڈرس کی من مانی پر جی ایچ ایم سی ایچ ایم ڈی اے اور نہ ہی ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھاریٹی (ریرا) کی جانب سے کوئی اقدام کیا جارہا ہے۔ شرائط کے مطابق اپارٹمنٹ ویلا اور پراجکٹ کی تعمیر کیلئے متعلقہ ایجنسیوں سے اجازت کے علاوہ 8 سے زائد پلاٹس کی تعمیر والے اپارٹمنٹ کیلئے ہر اپارٹمنٹ سے متعلق (ریرا) ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھاریٹی میں بلڈر کا رجسٹریشن ضروری ہوتا ہے۔ ریرا میں رجسٹرڈ ہونے کے بعد فروخت ہونے والے ہر اپارٹمنٹ کی رقم کو خصوصی اکاؤنٹس میں جمع کرنا پڑتا ہے۔ بلڈرس کی جانب سے کم قیمت پر فلیٹ اور پلاٹ کی فراہمی کی پیشکش کرتے ہوئے تعمیرات سے قبل رقم حاصل کی جاتی ہے اور اس کے بعد سال دیڑھ سال چکر کاٹنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ع