حیدرآباد : حیدرآباد میٹرو ریل چلانے والی تقریباً 65 خواتین ہیں ۔ حیدرآباد میں ایسی بہترین مثالیں ہیں کہ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جسے ایک خاتون نہیں کرسکتی ہے ۔ یہ خاتون لوکو پائیلٹس نے جو حیدرآباد میٹرو ریل سے وابستہ ہیں ، یہ ثابت کیا ہے کہ وہ محض ٹرین چلانے سے زیادہ کام کرسکتی ہیں ۔ حیدرآباد میٹرو ریل کی تقریباً 65 ویمن لوکو پائیلٹس میں یہاں چند پائیلٹس کا تذکرہ کیا جارہا ہے ۔ ورنگل میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی ، سراوانی بورا نے الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشنس انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کا منصوبہ ایک آئی ٹی پروفیشنل بننے کا تھا لیکن میٹرو ریل میں جاب ملنے پر یہ تبدیل ہوگیا ۔ 2019 ء میں اس نے پہلی مرتبہ میٹرو ریل کے ڈرائیور کی سیٹ سنبھالی تھی اور دو سال بعد اس کا کہنا ہے کہ ان دو برسوں میں کوئی دن ایسا نہیں گذرا جس میں اسے اس کے اس پوسٹ پر فخر کا احساس نہیں ہوا ہو ۔ 25 سالہ یہ خاتون لوکو پائیلٹ نے جوہر روز ناگول تا رائے درگ تین راؤنڈ ٹرپس کرتی ہے کہا کہ ’’ میں شکر گذار ہوں ۔ میرا ہمیشہ اس بات پر یقین ہے کہ ایک خاتون ہر وہ چیز کرسکتی ہے جو ایک مرد کرسکتا ہے ۔ ہاں بعض اوقات یہ ڈیمانڈنگ ہوجاتا ہے کیونکہ میرا جاب ایسا ہے جس میں ہر وقت چوکس و چوکنا رہنا پڑتا ہے ۔ لیکن اب تک یہ ایک اطمینان بخش سفر ہے ‘‘ ۔ حیدرآباد میٹرو ریل کی ایک اور لوکو پائیلٹ 24 سالہ پوجا دوبور کا جس نے میکانیکل انجنیئرنگ کا انتخاب کیا جو کہ زیادہ تر ایک مردوں کی فیلڈ ہے اور پھر اس نے میٹرو ریل سے وابستہ ہوئیں اور اس نے گزشتہ 24 مہینوں میں 50 ہزار کلو میٹر سے زیادہ ٹرین چلائی ۔ پوجا نے کہا کہ ’’بعض لوگ ہم کو ایسے گھورتے ہیں گویا کہ ہم کوئی اجنبی ، پردیسی ہیں جبکہ بعض لوگ ہماری تعریف کرتے ہیں اور حوصلہ بڑھاتے ہیں ۔ ابتداء میں کئی لوگوں نے کہا کہ میں اس فیلڈ میں زیادہ وقت تک نہیں رہ پاؤںگی ۔ کسی بھی عورت کیلئے جب وہ کسی مردوں کے غلبہ والی فیلڈ میں قدم رکھتی ہے تو اس طرح کی باتوں کا سامنا کرنا ایک عام بات ہوئی ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے یہ قدم اٹھایا ہے ‘‘ ۔ ان خواتین کیلئے اس میں منتخب ہونا آسان نہیں تھا کیونکہ اس میں سائیکلو میٹرک ٹسٹس ، ریسرچ ڈیزائینس ، کئی ٹکنیکل راؤنڈس اور میڈیکل ٹسٹس سے گزرنا ہوتا ہے اور پھر بعد میں تین ماہ کی سخت ٹریننگ ہوتی ہے ۔ 23 سالہ پرینکا ریڈی نے کہا کہ ’’لیکن تمام سخت محنت اور قربانیاں آخر میں ثمر آور ثابت ہوئیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں جو کرتی ہوں اسے پسند کرتی ہوں اس لئے میں نے کسی چیز کو ایسا دیکھنا نہیں چاہا کہ وہ مشکل کام ہے ‘‘ ۔ ایک اور خاتون لوکو پائیلٹ 23 سالہ نوئیا پالا کرلا نے کہا کہ کمیوٹرس اسے ڈرائیور کے کیبن میں دیکھ کر کبھی بھی بور نہیں ہوتے ہیں اور کبھی وہ یہ دیکھتی ہیں کہ لوگ ان کے بچوں سے کہتے ہیں کہ دیکھو کس طرح ایک خاتون نے اس پیشہ کو اختیار کیا ہے ۔ پونی سنکری نے کہا کہ ’’کئی خواتین کیلئے ‘‘ ان کے والدین کو منانا بڑا مشکل اور ایک چیالنج تھا ۔ ابتداء میں میرے والدین کو اس سلسلہ میں خدشات تھے لیکن آخر میں انہوں نے میرے فیصلہ کا احترام کیا ۔ لوکو پائیلٹس کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے یہ خواتین اب اسٹیشن کنٹرولر ، ڈپو کنٹرولر اور ٹریفک کنٹرولر کے بھی جابس چاہتی ہیں ۔ کولا سراونی نے کہا کہ ’’حیدرآباد میٹرو ریل نے ہمیشہ پوری مدد کی ہے ۔ اس میں ہر خاتون کی سیفٹی کو یقینی بنانے کیلئے مناسب سسٹم ہے ۔ اگر ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو ایسی صورت میں ہم ہمارے اعلی عہدیدار سے شکایت کرسکتے ہیں ‘‘ ۔ ایک ایسے سماج میں جہاں خواتین کا ان کی ڈرائیونگ مہارت کیلئے اکثر مذاق اڑایا جاتا ہے ، پوجا کا کہنا ہے کہ ’’خواتین اب ٹرینس چلارہی ہیں اور مجھے ان میں ایک ہونے پر فخر ہے ‘‘ ۔