یومیہ تقریباً 5لاکھ افراد اپنی منزل کو پہنچتے ہیں ، 57 ٹرینوں کی 1100ٹرپس ، ٹریفک مسائل کا محفوظ حل
حیدرآباد : 28 نومبر ( سیاست نیوز) حیدرآباد میٹرو ریل آج لاکھوں شہریوں کیلئے سب سے زیادہ قابل بھروسہ ٹرانسپورٹ بن چکی ہے ۔ آئی ٹی اور نان آئی ٹی ملازمین ہوں یا طلبہ یا پھر تمام شہریوں کیلئے یہ نہ صرف سفر کا آسان ذریعہ ہے بلکہ شہر کے ٹریفک کے بڑھتے دباؤ کے درمیان سکون اور وقت کی پابندی کا سہارا بھی ثابت ہورہی ہے ۔ ٹریفک میں گھنٹوں پھنسے رہنے سے نجارت دلاکر اور روزآنہ لاکھوں افراد کو اپنی منزل تک پہنچاتے ہوئے میٹرو نے اپنے 8سال مکمل کئے اور اب اپنے 9ویں سال میں داخل ہوچکی ہے ۔ ان 8برسوں میں میٹرو اور ایل اینڈ ٹی کی کارکردگی مجموعی طور پر 205 قومی و بین الاقوامی ایوارڈس سے نوازا جاچکا ہے ۔ حیدرآباد میٹرو پراجکٹ 2012ء میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت 14,132 کروڑ روپئے کی بھاری سرمایہ کاری سے شروع ہوا تھا کئی سال کی تعمیر و ترتیب کے بعد 28 نومبر 2017 کو وزیراعظم نریندر مودی نے میاں پور سے ناگول تک پہلی میٹرو لائن کا افتتاح کیا جس نے شہر میں جدید شہری ٹرانسپورٹ کا ایک نیا دور شروع کیا ۔ مارچ 2019 میں ایل بی نگر تا امیر پیٹ لائن فعال ہوئی اور 7 فبروری 2020 کو ایم جی بی ایس سے 2 جی ایس گرین لائن کا آغاز کیا گیا جس کے ساتھ میٹرو نیٹ ورک مزید وسیع ہوگیا ۔ فی الحال تین بڑی لائنیں ، ریڈ لائن ( میاں پور سے ایل بی نگر ) ، بلیو لائن ( رائے درگ سے ناگول) اور گرین لائن (MGBS سے JBS) شہر کے اہم علاقوں کو تیزی اور سہولت سے جوڑ رہی ہیں ۔ روزانہ 57 میٹرو ٹرینیں تینوں راہداریوں میں تقریباً 1100 ٹرپس چلاتی ہیں اور اوسطاً 4.5 تا 5لاکھ مسافر روزانہ میٹرو کا استعمال کررہے ہیں ۔ صبح 8 سے 11بجے اور شام 6 تا 9بجے ہجوی اوقات میں اکثر صورتحال یہ ہوتی ہے کہ ریل کے بوگیوں میں قدم رکھنے کی بھی جگہ نہیں ملتی ۔ گزشتہ 8برسوں میں 80 کروڑ مسافروں نے میٹرو ریل سے سفر کیا ہے جبکہ ٹرینیں روزانہ صبح 6 سے رات 11بجے تک بغیر کسی وقفہ کے چلتی ہیں ۔ اسی دوران ریاستی حکومت شہر کے مستقبل کو سامنے رکھ کر میٹرو کی توسیع کے دوسرے مرحلے پر تیزی سے کام کررہی ہے ۔ فیس 2میں پارٹ اے کے تحت پانچ اور پارٹ بی میں تین کاریڈور شامل کئے گئے جن کا فاصلہ 163 کلومیٹر اور تخمینی لاگت 43,848 کروڑ ہے ۔ اس منصوبہ کا ڈی پی آر فی الحال مرکز کے زیر غور ہے اور امکان ہے کہ مارچ 2026 تک منظوری مل جائے گی ۔ توسیع کی صورت میں میٹرو نیٹ ورک شہر کے بڑے حصہ کو جوڑکر حیدرآباد کے شہری ٹرانسپورٹ کو نئے معیار تک پہنچا دے گا ۔ 8 برسوں میں میٹرو کا یہ سفر صرف ایل ریل پراجکٹ کی پیشرفت نہیں بلکہ ایک ترقی یافتہ جدید اور متحرک شہر کے خواب کی تعبیر ہے ۔2