حیدرآباد میں 15 ہزار کروڑ کے ڈیٹا سنٹر کے قیام کے لیے مائیکرو سافٹ اور حکومت تلنگانہ میں معاملت کو قطعیت

   

حیدرآباد ۔ 20 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : امریکہ کی بڑی ٹکنالوجی کمپنی ، مائیکرو سافٹ اور حکومت تلنگانہ نے حیدرآباد میں 15 ہزار کروڑ روپئے کا ایک ڈیٹا سنٹر قائم کرنے کے لیے ایک معاملت کو قطعیت دی ہے ۔ اس کے لیے سمجھا جاتا ہے کہ شہر سے قریب 50 ایکڑ زمین کی فراہمی کو قطعیت دی گئی ہے اور اس پراجکٹ سے تقریبا 300 ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے ۔ اس سے واقف ذرائع کے مطابق اس سے متعلق رسمی اعلان ایک ماہ میں کئے جانے کا امکان ہے ۔ مائیکرو سافٹ کی جانب سے اس سلسلہ میں کئے گئے سوالات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ۔ تلنگانہ چند ریاستوں میں ایک ہے جس نے ہندوستان میں 2016 میں ایک ڈیٹا سنٹر پالیسی کا اعلان کیا ۔ یہ بھی توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ پانچ سال میں اس سگمنٹ میں تقریبا 10 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی ۔ 2020 کے آواخر میں امیزان ویب سروسیس (AWS) نے 2.77 بلین ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ ملک میں تلنگانہ میں اس کا دوسرا ڈیٹا سنٹر ریجن قائم کرنے منصوبوں کا اعلان کیا تھا ۔ فلپ کارٹ اور CTLS کی جانب سے بھی ریاست میں اس طرح کی فسلیٹیز قائم کئے جارہے ہیں ۔ گذشتہ سال مائیکرو سافٹ نے کہا تھا کہ اس کا منصوبہ مستقبل میں ہر سال تقریبا 50 تا 100 نئے ڈیٹا سنٹرس قائم کرنے کا ہے ۔ فی الوقت اس کمپنی کے دنیا بھر میں تقریبا 200 ڈیٹا سنٹرس ہیں ۔ مائیکرو سافٹ انڈیا کی جانب سے 1998 میں حیدرآباد میں ایک ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (R&D) سنٹر قائم کیا گیا تھا ۔ یہ اس کمپنی کا اس کے ریڈمنڈ ہیڈ کوارٹرس کے علاوہ ایک بہت بڑا آر اینڈ ڈی سنٹر ہے ۔ اس کمپنی نے ہندوستان میں کلاؤڈ ڈیٹا سنٹرس قائم کرنے کے لیے ایک طویل مدتی الائینس کے لیے 2019 میں ریلائنس جیو کے ساتھ بھی ایک معاہدہ کیا ۔ جے ایل ایل کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی موجودہ ڈیٹا سنٹر کپاسٹی 499 میگا واٹس (MW) کے منجملہ تقریبا 45 فیصد فینانشیل کیپٹل ممبئی سے ہوتی ہے ۔ اس کے بعد چینائی ، پونے اور بنگلورو ہر ایک کا اس میں 12 فیصد حصہ ہوتا ہے ۔ دہلی تقریبا 8 فیصد ، حیدرآباد تقریبا 7 فیصد اور کولکتہ تقریبا ایک فیصد ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے اس شعبہ میں سرمایہ کاروں کو ترغیبات کے ساتھ اس تفاوت کو دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کمپنیوں کے قیام کیلئے منظوریاں دینے میں تیزی اور اہم مقامات پراراضی دستیاب بنانے کے علاوہ حکومت تلنگانہ میں سنٹرس قائم کرنے والوں کو کچھ کلاؤڈ بزنس کی پیشکش کرنے کیلئے بھی تیار ہے ۔ ملک کی نئی ریاست ہونے کے باوجود تلنگانہ میں گذشتہ سات سال کے دوران 33 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ۔ 2014 میں متعارف کئے گئے ایک سنگل ونڈو کلیرنس TSi PASS کے ذریعہ حکومت نے تاحال تقریبا 17,500 سرمایہ کاری تجاویز کو منظور کیا ہے ۔ اس سے مرکز کے ’ ایز آف ڈوئنگ بزنس انڈیکس ‘ میں 2015 میں اس کے 13 ویں مقام سے 2019 میں تلنگانہ کو تیسرا مقام حاصل کرنے میں مدد ہوئی ہے ۔۔