عثمانیہ اور دیگر یونیورسٹیز میں زیر تعلیم، افغانستان کی موجودہ صورتحال سے فکر مند
حیدرآباد۔/17 اگسٹ، ( سیاست نیوز) افغانستان میں طالبان کے کنٹرول سے دنیا کے دیگر علاقوں کو افغانی باشندوں کی منتقلی کا بڑے پیمانے پر آغاز ہوچکا ہے اور اطلاعات کے مطابق کئی افغان خاندان ہندوستان کو محفوظ پناہ گاہ تصور کرتے ہوئے منتقلی کی تیاری کررہے ہیں۔ وزارت خارجہ کو اس معاملہ میں حکومت کی ہدایات کا انتظار ہے۔ دوسری طرف افغانستان کی موجودہ صورتحال سے پریشان اور فکر مند طلبہ جو تلنگانہ کی مختلف یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں انہوں نے ویزا میں توسیع کی درخواست کی ہے تاکہ وہ افغانستان کے شورش زدہ حالات سے بچ سکیں۔ ریاست میں تقریباً 200 افغانی طلبہ مختلف یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں اور انہوں نے ہندوستان کو اپنے لئے محفوظ قرار دیا ہے۔ افغان طلبہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ساتھی طلبہ اور افغانستان میں ان کے افراد خاندان واپسی کے خلاف ہیں۔ بعض طلبہ کو اندیشہ ہے کہ واپسی کی صورت میں ان کا مستقبل غیر یقینی ہوجائے گا۔ کئی طلبہ ایسے ہیں جنہیں آئندہ چند ہفتوں میں ویزا کی تکمیل کے بعد وطن واپس ہونا ہے اور ان کے کورس کی تکمیل کا وقت قریب آچکا ہے۔ جاریہ سال کے اختتام تک کئی طلبہ کے ویزا کی مدت ختم ہوجائے گی۔ افغان اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کے صدر محمد یوسف نے حکومت ہند سے درخواست کی ہے کہ ان کے ویزا کی میعاد میں توسیع کی جائے اور افغانستان میں صورتحال بہتر ہونے تک انہیں اسکالر شپ جاری کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 200 طلبہ جن میں 12 طالبات ہیں عثمانیہ یونیورسٹی، انگلش اینڈ فارن لینگویجس یونیورسٹی اور دیگر 3 یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں انہیں انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشن کی جانب سے ماہانہ 24,500 روپئے کی اسکالر شپ دی جاتی ہے۔ یوسف نے بتایا کہ کئی طلبہ کے امتحانات مکمل ہوچکے ہیں اور بعض کے ویزا اگسٹ کے اختتام تک ختم ہوجائیں گے۔ بیشتر طلبہ کو ڈسمبر تک وطن واپس ہونا ہے۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال میں طلبہ واپسی کیلئے تیار نہیں کیونکہ ان کا تعلیمی مستقبل وطن واپسی پر تاریک ہوسکتا ہے۔ ارکان خاندان واپسی کے خلاف ہیں اور وہ ہندوستان ہی میں قیام کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ حیدرآباد میں مقیم طلبہ بین الاقوامی نیوز چیانلس اور ویب سائیٹس کے ذریعہ وطن کی صورتحال اور طالبان کی پالیسی کے بارے میں معلومات حاصل کررہے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ان کے رشتہ دار اور دوست احباب کافی فکر مند ہیں اور وہ اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے مقامی بااثر قائدین سے مدد حاصل کررہے ہیں۔ کابل اور اطراف کے علاقوں میں طالبان نے انتظامی کنٹرول مکمل طور پر حاصل کرلیا ہے اور ان کی واضح پالیسی پر افغانی طلبہ کی وطن واپسی کا انحصار رہے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستانی حکومت طلبہ کے ویزا میں توسیع کرے گی یا نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد کے علاوہ دہلی اور بنگلور میں بھی افغانی طلبہ زیر تعلیم ہیں۔R
