حیدرآباد میں 4 لاکھ کروڑ روپے اراضی اسکینڈل ہونے کے ٹی آر کا الزام

   

فارمولہ ای کار ریس میں بے قصور ہونے کا دعویٰ، لائیو ڈیکٹر ٹسٹ کیلئے تیار ہونے کا اعلان
حیدرآباد۔ 21 نومبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے فارمولہ ای کار ریس کیس میں بے قصور ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ وہ لائیو ڈیٹکٹر ٹسٹ کے لئے بھی تیار ہے۔ لاکھوں کروڑہا روپے کی اراضی کا غبن کرنے کی سازش کرنے کا چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور ان کی ٹولی پر الزام عائد کیا۔ آج پارٹی کے ہیڈکوارٹر تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ریاست میں جہاں بھی خالی اراضیات ہیں اس کو ہڑپنے کے لئے چیف منسٹر کے زیر قیادت ٹولی گدکی طرح منڈلا رہی ہے۔ ریاست کے کئی قیمتی اراضیات پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کے ارکان خاندان کی نظر ہے۔ بالانگر کے مضافات میں تقریباً 9300 ایکر اراضی کا گھوٹالہ چل رہا ہے۔ بالانگر، کاٹے دان، جیڈی میٹلہ کے علاقوں میں چیف منسٹر نے اپنے قریبی لوگوں کو اراضی فراہم کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جملہ 4 لاکھ کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہو رہا ہے اور یہ ملک کا سب سے بڑا اراضی اسکام ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ چیف منسٹر اپنے دورے جاپان کے موقع پر اس اراضی کی فائل کے تعلق سے خصوصی احکامات جاری کئے۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ ہر حکومت صنعتکاروں کو رعایت دیتی ہے۔ مگر کانگریس حکومت حیدرآباد میں بہت بڑے اراضی اسکینڈل میں ملوث ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں سال 2022 کے دوران لینڈ ریگولیشن کے لئے قانونی سازی کی ۔ اراضیات کو صد فیصد ادا کرنے کے قواعد میں تبدیلی کی گئی۔ اراضی دوسروں کو فروخت کرنے پر 200 فیصد ادا کرنا ہوگا۔ مگر کانگریس حکومت قواعد کو نظرانداز کرتے ہوئے اراضیات مختص کررہی ہے۔ صرف 30 فیصد کی ادائیگی پر اراضیات کو باقاعدہ بنانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ یہ بہت بڑا اراضی کا اسکام ہے جس کی بی آر ایس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے اور کانگریس حکومت کی ناکامیوں اور بے قاعدگیوں کا بڑی دلیری سے پردہ فاش کرتے رہے گی جھوٹے مقدمات سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوگی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ انحراف قانون کے شکنجے سے محفوظ رہنے کے لئے دو ارکان اسمبلی ڈی ناگیندر اور کڈیم سری ہری سے استعفی دلانے پر حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ پارٹی تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کونااہل قرار دینے پر حکومت کا وقار مجروح ہونے کے خوف سے ان دو ارکان اسمبلی کو بَلی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ 2