حیدرآباد میں 985 کروڑ روپئے کے ایس این ڈی پی پروگرام پر عمل آوری

   

ترقیاتی کاموں میں مرکز کا کوئی حصہ نہیں، کشن ریڈی کا مرکزی وزارت میں شامل رہنا بدبختی : کے ٹی آر
حیدرآباد ۔ 12 مارچ (سیاست نیوز) وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے بتایا کہ شہر حیدرآباد میں سیلاب کے پانی اور سیوریج نظام کو بہتر بنانے اسٹریجٹک کنال ڈیولپمنٹ پروگرام کا آغاز کیا۔ 985 کروڑ 45 لاکھ کے مصارف سے جملہ 60 کام شروع کئے گئے ہیں۔ کئی مرحلوں میں کاموں کی پیشرفت ہورہی ہے۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شہر حیدرآباد میں (ایس این ڈی پی) کے کاموں پر ارکان اسمبلی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کشن ریڈی کا مرکزی وزارت میں شامل رہنا ہمارے لئے بدبختی ہے۔ انہوں نے شہر کی ترقی اور مسائل کی یکسوئی کیلئے کوئی کام نہیں کیا ہے۔ مرکز کے اختیار کردہ رویہ کی کے ٹی آر نے سخت مذمت کی اور کہا کہ حیدرآباد میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر مرکز سے آج تک کوئی مالی امداد وصول نہیں ہوئی۔ تلنگانہ حکومت مرکز پر انحصار کئے بغیر شہر حیدرآباد کو ترقی دینے بڑے پیمانے پر اقدامات کررہی ہے۔ سیوریج نظام کو بہتر بنانے کیلئے حیدرآباد میں تین مرحلوں میں کام کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ ایم سی ایچ میں ڈرینج نظام سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ہے۔ مضافاتی علاقوں میں انڈرگراؤنڈ ڈرینج نظام تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 11 ہزار کروڑ کے مصارف سے حیدرآباد سیوریج ماسٹر پلان تیار کیا گیا ۔ سیلابی پانی کے نالے اور آلودہ پانی کے نالے ایک دوسرے سے مل گئے ہیں۔ نالوں پر غیرمجاز تعمیرات بھی ہوئی ہیں۔ ایس این ڈی پی پروگرام کے ذریعہ سیلابی پانی اور سیوریج نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جی ایچ ایم سی حدود میں 735 کروڑ کے مصارف سے کام کئے جارہے ہیں۔ ان کاموں کی پیشرفت کا وہی ہر ہفتہ جائزہ لے رہے ہیں۔ آئندہ موسم بارش سے قبل ان کاموں کی تکمیل کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ان ایس این ڈی پی کے کاموں میں مرکزی حکومت کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حیدرآباد جب سیلاب سے متاثر تھا مرکزی وزراء گھوم پھر کر صرف تصویریں کھنچائی مگر فنڈز جاری نہیں کیا گیا۔ گجرات کو 1000 کروڑ روپئے جاری کیا گیا۔ن